رسائی کے لنکس

کراچی: پولیس افسر پر حملے کے بعد سلامتی کی صورتحال 'باعث تشویش'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے 14 مختلف سوالات پوچھے گئے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں ان دنوں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر دگرگوں ہے اور حالیہ دنوں میں ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں میں جہاں شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے علما کو ہلاک کیا گیا وہیں جمعرات کو پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے قافلے پر بم حملے سے بھی سلامتی کی صورتحال سے متعلق بے یقینی پائی جاتی ہے۔

جمعرات کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز فور میں سینیئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس فاروق اعوان کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا تھا جس میں پولیس افسر خود تو معمولی زخمی ہوئے لیکن اس واقعے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فاروق اعوان شہر میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔

کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گزشتہ سال ستمبر میں پولیس اور رینجرز نے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا تھا جس میں سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کے علاوہ درجنوں مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک بھی کیا جاچکا ہے۔

اسی بنا پر پولیس اور رینجرز پر بھی کالعدم شدت پسند تنظیموں کے لوگ ہلاکت خیز حملے کرتے رہے ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں کیے گئے ایسے ہی ایک حملے میں پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار چودھری اسلم ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری طرف شہر کی بااثر سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بدھ کو دیر گئے اپنے ایک دفتر پر رینجرز کے چھاپے اور اپنے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف اپنے احتجاجی دھرنے ان کارکنوں کی رہائی کے بعد ختم کر دیے جس کے بعد شہر میں معمولات زندگی بحال ہوگئے۔

ایم کیو ایم ٹارگٹڈ آپریشن کے آغاز ہی سے یہ کہتی رہی ہے کہ اس میں ان کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن حکومت اور اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ کارروائیاں جرائم پیشہ اور شر پسند عناصر کے خلاف کسی تفریق کے بغیر کی جارہی ہیں۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے 14 مختلف سوالات پوچھے گئے ہیں۔

بیان میں ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ کراچی میں آپریشن شروع ہونے کے بعد سے ان کی جماعت کے 41 کارکن لاپتا ہیں۔

اس جماعت کا دعویٰ ہے کہ ان کے کارکنوں کو رینجرز کی طرف سے مبینہ طور پر حراست میں لینے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

تاہم رینجرز کے عہدیداران یہ کہتے آئےہیں کہ وہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG