رسائی کے لنکس

کراچی بدامنی: سپریم کورٹ کو امن و امان کی صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھا جائے


کراچی بدامنی: سپریم کورٹ کو امن و امان کی صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھا جائے

کراچی بدامنی: سپریم کورٹ کو امن و امان کی صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھا جائے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قتل و غارت گری سے متعلق کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جولائی سے آغاز سے معاشی سرگرمیوں کا مرکز کہلانے والے شہر میں خونریز بدامنی پر عدالت عظمیٰ نے اگست کے اواخر میں ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد اس مقدمے کی بیشتر سماعت سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں ہوئی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو مقدمے کی سماعت کے اختتام پر صوبہ سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح ملک کو حکم دیا کہ وہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال سے عدالت عظمیٰ کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کریں۔

عدالت نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہر میں پرتشدد واقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

مقدمے کے ایک فریق ’سندھ بچاؤ کمیٹی‘ کے وکیل عبدالمجیب پیرزادہ نے کمرہ عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں پر زور دیا کہ مقدموں کی کارروائی تیز کی جائے تاکہ بدامنی کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔

جمعرات کو سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مقدمے کا تفصیلی فیصلہ کب سنایا جائے گا۔

کراچی میں پرتشدد واقعات کے خلاف سپریم کورٹ نے 24 اگست کو ازخود نوٹس لیا تھا اور اس کی پہلی سماعت اسلام آباد میں ہوئی جس کے بعد کارروائی عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں منتقل کر دی گئی۔

دس روز تک کراچی میں جاری رہنے والی سماعت میں جہاں وفاقی و صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے وکلا نے اپنے دلائل دیے وہاں قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے بھی عدالت میں پیش ہو کر جج صاحبان کو شہر میں بدامنی کے محرکات سے آگاہ کیا اور کئی اہم انکشافات کیے۔

سندھ پولیس کے سربراہ واجد درانی نے بدامنی پر قابو پانے میں پولیس کو درپیش مسائل سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ فورس کے 30 سے 40 فیصد اہلکاروں کی بڑی سیاسی جماعتوں سے ہمدردیاں ہیں۔

نیم فوجی سکیورٹی فورسز سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل اعجاز چودھری نے کراچی کی صورتحال کو قبائلی علاقے وزیرستان سے بھی زیادہ نشویش ناک قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے عسکری دھڑوں اور مختلف جرائم پیشہ عناصر کو شہر میں بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

فوج کی سراغ رساں ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ نے بھی عدالت کو بند کمرے میں بریفنگ دی۔

ازخود نوٹس کیس کی کراچی میں سماعت کے دوران رینجرز اور پولیس کے آپریشنز کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں حالات پرامن رہے۔ ان آپریشنز کے دوران درجنوں مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

تاہم رینجرز کے سربراہ نے ایک نیوز کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ کراچی میں ہدف بنا کر قتل کے واقعات میں کمی وقتی ہے اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے ضروری ہے کہ رینجرز کو دیے گئے پولیس کے اختیارات کو 90 روز تک محدود کرنے کے بجائے جاری رکھا جائے تاکہ شرپسند عناصر پھر سر نا اُٹھا سکیں۔

XS
SM
MD
LG