رسائی کے لنکس

کراچی: جامعہ بنوریہ کے اساتذہ سمیت نو افراد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

واقعہ کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں صورت حال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئی اور کسی بھی ممکنہ پر تشدد احتجاج کے پیش نظر کاروباری مراکز بند ہو گئے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں جمعرات کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں جامعہ بنوریہ کے مفتی عبد المجید دین پوری سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق مفتی عبد المجید اور جامعہ بنوریہ کے دو دیگر اساتذہ کو کراچی میں شاہراہ فیصل پر اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ ایک گاڑی میں وہاں سے گزر رہے تھے۔

فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور وہاں سے فرار ہو گئے۔

اس واقعہ کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں صورت حال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئی اور کسی بھی ممکنہ پر تشدد احتجاج کے پیش نظر کاروباری مراکز بند ہو گئے۔

شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پولیس کو چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں اطلاعات کے مطابق گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

کراچی میں حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کراچی کی صورت حال پر سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارا کام ہے اطلاع دینا، صوبائی حکومت کا کام ہے عمل کرنا اور اگر ایکشن نہیں ہوتا تو اس کے اثرات ٹھیک نہیں ہوتے۔‘‘

صوبائی حکومت نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے دیگر اضلاع سے پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری کراچی بلاوا کر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل ممین نے صحافیوں کو بتایا کہ صوبے کے وہ اضلاع جو پر امن ہیں وہاں سے پولیس کی نفری کو کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

’’کل (جمعہ) کو وہ پولیس کی نفری کراچی پہنچ جائے گی اور جو حساس علاقے ہیں وہاں ان سے کام لیا جائے، وزیراعلٰی نے حساس علاقوں میں پو لیس اور رینجرز کو تاکید کی ہے کہ فوری طور پر ٹارگٹڈ ایکشن کیا جائے۔ بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ ایکشن ہو گا لیکن یہ کسی پارٹی یا تنظیم کے خلاف ایکشن نہیں ہو گا۔‘‘

قبل ازیں کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں بدھ کی رات ایک بم دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا اور یہ دھماکا ایک غیر آباد مقام پر ہوا تھا۔
XS
SM
MD
LG