رسائی کے لنکس

شاہراہ قراقرم کو کھولنے اور وہاں پھنسے ہزاروں افراد کے لیے جاری کوششیں

  • سید

شاہراہ قراقرم کو کھولنے اور وہاں پھنسے ہزاروں افراد کے لیے جاری کوششیں

شاہراہ قراقرم کو کھولنے اور وہاں پھنسے ہزاروں افراد کے لیے جاری کوششیں

چار جنوری کو گلگت بلتستان میں وادی ہنزہ کے ایک مقام پر پہاڑی تودے گرنے سے 13 افراد ہلاک اور چھ لاپتہ ہو گئے تھے جب کہ 20 سے زائد مکان بھی اس حادثے میں منوں مٹی تلے دب گئے۔ لیکن تقریبا ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اس لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مقامی آبادیا ں ایک بحران سے دوچار ہیں جب کہ پاکستانی حکام صورت حال کو بہتر کرنے کی ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔

عطاء آباد کے علاقے میں پیش آنے والے اس حادثے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کا ایک بڑا حصہ پہاڑی تودوں تلے دب کر تباہ ہو گیا ہے اور یوں پاکستان کو چین سے ملانے والا یہ واحد زمینی راستہ بند ہو چکا ہے جس کے باعث لگ بھگ 25 ہزار پر مشتمل آبادی والے علاقوں کا پاکستان سے زمینی رابطہ بھی ٹوٹا ہو ا ہے۔ لیکن چینی حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے تحت پاکستان کی درخواست پر متاثرہ علاقے کے ایک 35 رکنی تجارتی وفد کو اپنے سرحدی شہر کاشغر میں داخل ہو نے اور اپنے لوگوں کے لیے خوراک کو ضروری سامان لے جانے کی اجازت دی ہے جو ایک دو روز میں یہ سامان لے کرواپس پہنچ جائے گا۔

تاہم اس دوران پاکستان کے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے متاثرہ علاقوں کے لیے ہیلی کاپٹر کی خصوصی پروازیں شروع کر رکھی ہیں جو مقامی لوگوں کو خوراک اور دوسری ضروری اشیاء پہنچانے کے علاوہ مریضوں اور طالب علمو ں کے لانے لے جانے کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے چیئرمین فاروق احمد خان کا کہنا ہے کے ان کا ادارہ پہاڑی تودوں کے ملبے کو ہٹانے کی کوششیں کر رہا ہے اور اس کام کے لیے ضروری مشینر ی بھی وہا ں پہنچا دی گئی ہے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کے امدادی ٹیموں کے لیے سب سے بڑا چیلنج جلد سے جلد ملبہ ہٹا کر دریائے ہنزہ کے پانی کے لیے گزرنے کا راستہ بنانا ہے۔

جنرل فاروق نے بتایا کے ان کا ادارہ اس بات کا بھی بغور جائزہ لے رہا ہے کہ اگر مصنوعی جھیل میں آنے والے دنوں میں پانی خطرناک حد تک بھرنے سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے نقصانات کس پیمانے پر ہوں گے۔عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نذیر صابر نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ فی الحال سردیوں کے موسم کی وجہ سے دریائے ہنزہ کے پانی کا بہاؤ موسم گرماکے بہا ؤ سے30 گنا کم ہے جس کے باعث طغیانی کے امکانات بھی کم ہیں۔

ماحولیات اور پہاڑوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے نجی ادارے DEVCOMکے نمائندے منیر احمد اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اگرچہ موسم سرما میں دریائی پانی کا بہاؤنسبتاً کم اور سست ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود جھیل میں پانی کی سطح روزانہ دو سے اڑھائی فٹ اوپر جارہی ہے اورطغیانی کی صورت میں زیریں علاقوں میں مقیم ہزاروں کی تعداد میں آبادی متاثرہوسکتی ہے۔

فاروق احمد خان بھی اس خطرے کو مسترد نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ جھیل جو دریا کی سطح سے تقریباً 280فٹ بلند ہے اس کی طغیانی کا امکان تو بہر حال موجود ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”طغیانی سے آبادی کس حد تک متاثر ہوسکتی ہے اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ آیا اس جھیل میں پانی کی سطح کیا ہے اور آیا یہ یک لخت ٹوٹتی ہے یا مرحلہ وار“۔ ان کے مطابق اگر پانی وقفوں سے نکلتا ہے تو طغیانی کم ہوگی اور اگر اچانک پانی امڈتا ہے تو 280فٹ اونچی پانی کی لہر نیچے کے علاقوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

فاروق احمد خان نے یہ بھی بتایا کہ عطاء آباد میں پہلے بھی تودے گرتے رہے ہیں اور 1858ء میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً ساڑھے چار سال یہاں راستہ بند رہا اور اتنا پانی جمع ہوگیا کہ جب وہ جھیل ٹوٹی تو طغیانی سے اٹک میں سکھ آرمی کیمپ کے 1500آدمی بہہ گئے۔اس طرح 1974ء میں تودے گرنے سے ساڑھے تین سال یہ سڑک بند رہی اور لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے آرپار کیا جاتا رہا۔

XS
SM
MD
LG