رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق


پاک افغان صدور کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس

پاک افغان صدور کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس

افغانستان کے صدر حامد کرزئی پاکستان کے دو روزہ دورے پر بدھ کو اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں اُنھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ، معیشت اور تجارتی روابط بڑھانے سمیت باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور پر بات چیت کی گئی۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں حامد کرزئی نے کہا کہ اُن کی پاکستانی ہم منصب سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے بہتر مستقبل کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام شعبوں میں تعاون جاری رکھا جائے۔

صدر کرزئی نے کہا کہ اُنھوں نے پاکستانی صدر سے ملاقات میں اس معاملے پر کھل کر بات کی کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور اُن کی پناہ گاہوں چاہے وہ افغانستان میں ہوں یا پاکستان میں کیسے ختم کیا جائے۔

صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گرد ناتو پاکستان اور ناہی افغانستان کے دوست ہیں ۔

صدر زرداری نے کہا کہ وہ ہمارے مشترکہ دشمن ہیں اور اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیسے دوطرفہ تعاون کو بڑھایا جائے۔ صدر زردای نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے پر اُنھوں نے افغان صدر سے بات چیت کی ہے لیکن اس بارے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہفتہ کوہونے والے عام انتخابات سے محض تین روز قبل صدر کرزئی کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر کرزئی نے بھی پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر پرامن انتخابات ہوتے ہیں تو وہ ناصرف افغانستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے سود مند ہوں گے بلکہ اُس کے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر کرزئی نے کہا کہ افغانستان کسی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔

صدر کرزئی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ ایسے طالبان سے بات چیت چاہتے ہیں جن کا القاعدہ یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہ ہو اور وہ ملک کے آئین کو تسلیم کرتے ہوں۔
افغان صدر پاکستانی و زیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کریں گے ۔

XS
SM
MD
LG