رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں توانائی کے منصوبے

  • روشن مغل

پترینڈ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا ایک منظر

پترینڈ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا ایک منظر

زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں میں سے دو بڑے منصوبے پترینڈ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس دارالحکومت مظفرآباد کے قریب واقع ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا خطہ آبی وسائل سے مالا مال ہے جہاں ندی نالوں اور دریاؤں کے پانی سے اب تک ساڑھے آٹھ ہزارمیگا واٹ بجلی پیداکرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان میں سے کئی منصوبوں کی تعمیر کی جا رہی ہے جن سے آئندہ تین بر سوں میں تین ہزار میگا واٹ بجلی پیداکی جائے گی۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پن بجلی کے کئی بڑے منصوبوں کی ڈیزایئنگ اور ان کی جلد تعمیر شروع کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے پرائیویٹ پاور سیل کے ڈائریکٹر جنرل فاروق حیدر گگرو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میر پور میں پرائیویٹ سیکٹر میں تعمیر ہونے والا 80 میگا واٹ کا ایک منصوبہ مکمل بھی ہو چکا ہے جبکہ پبلک سیکٹر میں واپڈا کے تحت تعمیر ہونے والے نیلم جہلم کے علاوہ کئی چھوٹے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں میں سے دو بڑے منصوبے پترینڈ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس دارالحکومت مظفرآباد کے قریب واقع ہیں۔

ان میں 150 میگا واٹ پترینڈ ھائیڈرو پرا جیکٹ خیبر پختونخوا سے بہہ کر پاکستانی کشمیر میں داخل ہونے والے دریا ئے کنہار پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹر یا آئی پی پی کا توانائی پیدا کرنے کا تا حال سب سے بڑا منصوبہ ہے جسے ایک کورین کمپنی تعمیر کر رہی ہے۔

اس کے لیے ورلڈ بینک ، اسلامک ڈوپلمنٹ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے قرض مہیا کیا ہے۔
منصوبے کی تعمیر کرنے والی کمپنی کے منیجر ایچ ایس سی آفتاب عالم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ آب وہوا دوست منصوبہ ہے جس کی تعمیر سے سالانہ تین سو ٹن مضرصحت گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی اور اس منصوبے سے مظفرآباد شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دو پارکوں کی تعمیر بھی کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG