رسائی کے لنکس

صحافیوں سے گفتگو میں پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جتنی جلد کوششیں شروع کی جائیں وہ خطے کے امن کے مفاد میں ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر ایک بنیادی تنازع ہے جس کا حل دونوں پڑوسی ممالک کے مفاد میں ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جتنی جلد کوششیں شروع کی جائیں وہ خطے کے امن کے مفاد میں ہیں۔

’’ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تمام معاملات کو حل کیا جائے، بھارت کشمیر سمیت سارے معاملات پر پاکستان سے بات کرے اور ہم بھی کشمیر سمیت سب معاملات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور جتنا جلدی دونوں ملک اس پر کام شروع کریں اتنا ہی دونوں ملکوں کے لیے بہتر ہو گا۔‘‘

نواز شریف نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق نواز شریف جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھارت کی پاکستان میں مبینہ مداخلت کے علاوہ مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کریں گے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات تاحال طے نہیں ہے۔

نوازشریف اور نریندر مودی کے درمیان آخری بار ملاقات جولائی کے اوائل میں روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔

دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کے بعد کہا کہ بھارت اور امریکہ ممبئی دہشت گرد حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

پاکستان کی طرف سے سشما سوراج کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت نے 26 نومبر 2008ء کو ممبئی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کی تھی۔

پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت سات افراد کو حراست میں لے کر اُن کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔

تاہم عدالت کی طرف سے لکھوی کی ضمانت پر رہائی دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کا باعث ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ذکی الرحمٰن کو عدالتی حکم پر ضمانت پر رہا کیا گیا اور حکومت عدالتی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

پاکستان کا بھارت سے یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے مزید ٹھوس شواہد فراہم کرے تاکہ اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

XS
SM
MD
LG