رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر:ہزاروں بچے خیموں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

  • روشن مغل

پاکستانی کشمیر:ہزاروں بچے خیموں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

پاکستانی کشمیر:ہزاروں بچے خیموں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

تعلیمی ادا رو ں کی مستقل بنیا دو ں پر تعمیر کے لئے امریکہ ،تر کی ،برطانیہ ،کینیڈا،سعودی عرب ،کویت اور قطر سمیت درجنو ں دوسر ے مما لک اور امدا د ی تنظیمو ں نے سینکڑو ں تعلیمی ادارو ں کی تعمیر مکمل کی ۔جن میں یو نیو رسٹی اور کا لجز بھی شا مل ہیں ۔لیکن زلز لے سے بحا لی و تعمیر نو کی اتھا ر ٹی ایرا کی طر ف سے جا ری کر دہ اعدادو شما ر کے مطا بق مکمل ہو نے وا لے 611تعلیمی ادارو ں میں سے 209امداد دینے وا لے مما لک اور بین الاقوا می امدا د ی تنظیمو ں نے خو د تعمیر کروا ئے ہیں ۔اس طرح حکو متی ادا ر ے اب صر ف 402تعلیمی ادا رو ں کی تعمیر مکمل کروا سکے ہیں ۔

آٹھ اکتو بر 2005کو آنے وا لے 7.6شدت کے زلز لے نے پا کستا نی کشمیر کے اضلا ع مظفرآبا د ،با غ اور راولاکو ٹ میں 2800سے زائدا سکو لو ں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا ۔جن میں اٹھا رہ ہزار کے قریب بچے جا ں بحق اور ہزا رو ں کی تعدا د میں زخمی ہو گئے تھے۔

تبا ہ ہو نے وا لے اسکو لو ں کی جگہ زلزلے کو آئے 5سا ل گزر نے کے با وجو د اب تک صر ف 611تعلیمی ادا رے تعمیر کئے گئے ہیں اور 12سو کے قریب ادا رو ں کی تعمیر کا کا م جا ری ہے۔زلز لے میں زمیں بو س ہو نے وا لے سوا ئے چند ایک کے سب سرکا ری اسکول تھے اور لو گو ں کی طر ف سے سرکا ری اسکو لو ں کی نا قص تعمیر کو بچو ں کی اتنی بڑ ی میں تعدا د میں ہلا کت کا سبب قراردیا جارہاہے۔

زلزلے کے بعد بیرو نی مما لک اور امدا دی تنظیمو ں کی طر ف سے لا کھو ں طالب علمو ں کا تعلیمی سا ل ضا ئع ہو نے سے بچا نے کے لئے فوری طور پر خیمو ں اور عا ر ضی پنا ہ گا ہو ں میں اسکو ل قا ئم کر کے تعلیم و تدریس کا سلسلہ بحا ل کیا گیااور بیرو نی مما لک نے متا ثرہ علا قو ں کی تعمیر نواور بحا لی کے لئے2006میں 6ارب ڈا لر کی امدا د فراہم کی۔چو نکہ زلزلہ میں شعبہ تعلیم سب سے زیا دہ متا ثرہوا تھا اس لئے اس کی بحا لی و تعمیر نو کے لئے سب سے زیا دہ منصو بے رکھے گئے اور سب سے زیا دہ غیر سر کا ر ی تنظیمو ں نے بھی اس شعبے کی بحا لی کے لئے کا م کیا۔

تعلیمی ادا رو ں کی مستقل بنیا دو ں پر تعمیر کے لئے امریکہ ،تر کی ،برطانیہ ،کینیڈا،سعودی عرب ،کویت اور قطر سمیت درجنو ں دوسر ے مما لک اور امدا د ی تنظیمو ں نے سینکڑو ں تعلیمی ادارو ں کی تعمیر مکمل کی ۔جن میں یو نیو رسٹی اور کا لجز بھی شا مل ہیں ۔لیکن زلز لے سے بحا لی و تعمیر نو کی اتھا ر ٹی ایرا کی طر ف سے جا ری کر دہ اعدادو شما ر کے مطا بق مکمل ہو نے وا لے 611تعلیمی ادارو ں میں سے 209امداد دینے وا لے مما لک اور بین الاقوا می امدا د ی تنظیمو ں نے خو د تعمیر کروا ئے ہیں ۔اس طرح حکو متی ادا ر ے اب صر ف 402تعلیمی ادا رو ں کی تعمیر مکمل کروا سکے ہیں ۔

زلزلے سے تباہ حال ایک عمارت

زلزلے سے تباہ حال ایک عمارت

ایرا کا ذیلی ادارہ سیرا جو پاکستا نی کشمیر میں تعمیر نو پرو گرا م چلا رہا ہے ،کے ڈائریکٹر ما نیٹرنگ واولیوایشن ،جمیل احمد خا ن نے وائس آف امریکہ کو بتا یا کہ تعلیم کے شعبہ میں زلزلے سے بہت تبا ہی ہو ئی تھی۔ادارو ں کی تعمیر سے قبل ان کی تفصیلی ڈیزا ئنگ سمیت کئی مر حلے طے کر نے ہو تے ہیں ۔تا کہ تعمیر نو پرو گرا م کے تحت تعمیر ہو نے وا لے ادارے زلزلہ مز احم ہو ں۔ اس لئے اس میں وقت لگتا ہے۔تا ہم انہو ں نے امید ظا ہر کی کہ جن 12سو ادارو ں کی تعمیر کا کام جا ری ہے۔وہ آئندہ سا ل جون تک مکمل ہو جا ئیں گئے۔انہو ں نے کہا کہ بقیہ ادارو ں کی تعمیر کے لئے ڈیزائنگ کی جا رہی ہے۔

پا کستا نی کشمیر کے وزیر تعمیر نو راجہ نسیم خا ن نے وائس آف امریکہ کو بتا یا کہ زلزلے سے متا ثرہ علا قو ں میں ا سکو ل جا نے وا لے80بچو ں کوا سکو ل کی چھت میسر نہیں ہے۔وہ سخت مو سم میں خیمو ں یا کھلے آسما ن تلے تعلیم حا صل کر رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے نہ صر ف ان کی صلا حیتیں متا ثر ہو رہی ہیں بلکہ ان کی صحت پر بھی برے اثرا ت مر تب ہو رہے ہیں ۔

تا ہم انہو ں نے کہا کہ تعلیمی ادارو ں کی تعمیر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے پاکستا ن میں سیلا ب اور ایرا کی طر ف سے فنڈز کی عدم فرا ہمی کی وجہ سے تعلیمی ادا رو ں کی تعمیر سست روی کا شکا ر ہے۔انہو ں نے کہا کہ اب تک تعلیمی ادا رو ں کی تعمیر مکمل نہ ہو نے کی ایک بڑی وجہ مقا می ٹھیکے دارو ں کی اتنی بڑی تعداد میں تعلیمی ادارو ں کی تعمیر کی استعداد نہ ہو نا بھی ہے۔انہو ں نے امید ظا ہر کی کہ وفا قی حکو مت تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لئے فنڈز فرا ہم کرے گی جس سے ان کی تعمیر کا کا م تیز ہو گا۔

XS
SM
MD
LG