رسائی کے لنکس

کشمیر میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا منصوبہ

  • روشن مغل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو گھروں اور عمارتوں کی چھتوں سے پائپ اور پرنالوں کے ذریعے ٹینکی میں محفوظ کیا جائے گا۔

پاکستان میں زلزلے سے بحالی و تعمیر نو کے ادارے ’ایرا‘ نے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے لیے لوگوں میں اس کی آگاہی پیدا کرنے کے علاوہ عملی نمونے بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہلے مر حلے میں گیارہ یونین کونسلوں میں آزمائشی منصوبہ مکمل کیا گیا اور 122 سرکاری عمارتوں کی چھتوں سے بارش کا پانی محفوظ بنانے کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو گھروں اور عمارتوں کی چھتوں سے پائپ اور پرنالوں کے ذریعے ٹینکی میں محفوظ کیا جائے گا۔

ایرا کے ڈائریکٹر جنرل واٹر اینڈ سینیٹیشن ظہیر حسین گردیزی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اس سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے زلزلہ زدہ پہاڑی علاقوں نمونے کے طور پر اب تک 40 ہزار گھروں کو چھت سے بارش کے پانی کو ذخیرہ کر نے کے لیے پانی کی ٹینکیاں اور پرنالے مہیا کیے گیے ہیں۔ جن سے دو لاکھ 80 ہزار افراد مستفید ہو رہی ہے۔

’’تمام لوگوں کو سٹوریج دینا کے لیے مکمل نظام بنا کے دینا اور واٹر ٹینک دینا بڑا مشکل کام تھا اس کے لیے تو اربوں روپے درکار ہوں گے لیکن اصل مقصد یہ تھا اس منصوبے کا کہ لوگوں کو عملی نمونے کے ساتھ آگاہی فراہم کی جائے۔ اس کے لیے پہلے مرحلے میں سرکاری عمارتوں، اسکولوں اور مساجد وغیر میں واٹر ٹینکس بھی دیے گئے۔‘‘

محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر میں ہر سال اوسطاً 1500ملی میٹر بارش ہوتی ہے اور بارش کا یہ پانی پہاڑوں سے ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس پانی کو گھروں کی چھتوں سے ہی سے محفوظ بنا کر استعمال میں لا کر پانی کی قلت کو دور کیا جا سکتا ہے۔

ظہیر گردیزی نے بتاتا کہ اکتوبر 2005ء کے زلزلہ سے کشمیر اور خیبر پختونخواہ میں فراہمی آب کے منصوبے تباہ ہو گئے تھے۔

جنھیں ایرا نے بحال کر دیا مگر لوگوں کے طرز رہائش میں تبدیلی آنے کی وجہ سے پانی کی ضرورت میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور قدرتی چشمے خشک ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول بارش کا پانی کو محفوظ کرکے اس کمی پر قابو میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG