رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر: پن چکیوں سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ

  • روشن مغل

پاکستانی کشمیر کی حکومت کے سیکرٹری برائے منصوبہ بندی و ترقیات منصور قادر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جندر مالکان کو بجلی کی پیداوار کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت مہیا کی جائے گی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دیہی علاقوں میں پانی سے چلنے والی عشروں پرانی چکیاں آج بھی آٹا پیسنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ برسوں پرانی یہ صنعت روزبروز کم ہوتی ہوئی فصلوں کی مقامی پیداوار کی وجہ سے سال میں چند ماہ ہی رواں دواں رہتی ہے۔

علاقے میں قائم ہونے والے پن بجلی منصوبوں سے پن چکی مالکان کو ترغیب حاصل ہوئی ہے کہ وہ ان چکیوں سے بجلی بھی پیدا کر سکتے ہیں اور چکی یا مقامی طور پر جندر کے نام سے مشہور ان چکیوں کے محض تھوڑے سے پانی سے چھوٹی صنعتیں بھی چلا سکتے ہیں۔

لیکن مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اُن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو رہا جس کے لیے وہ حکومت سے تعاون خواں ہیں۔

ان جندر مالکان میں کنٹرول لائن کے قریبی قصبے کٹھائی کے ارشد اعوان بھی شامل ہیں جو حکومتی تعاون سے جو اپنے جندر کے پانی سے بجلی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ لوگوں کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

"لوگوں کی معاونت کی جائے، انھیں آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں۔"

لیکن دوسری طرف مظفرآباد کے ایک نواحی دیہات باغ سیداں کے عاشق حسین اپنی مدد آپ کے تحت اپنے جندر کے پانی سے گاﺅں میں اپنے رشتے داروں کے آٹھ دس گھروں کے لیے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ علاقے میں لکڑ چرائی کی مشین بھی چلا رہے ہیں۔

پاکستانی کشمیر کی حکومت کے سیکرٹری برائے منصوبہ بندی و ترقیات منصور قادر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جندر مالکان کو بجلی کی پیداوار کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت مہیا کی جائے گی۔

منصور قادر

منصور قادر

"ہم نے اسپیشل فنڈ قائم کر دیا ہے جس میں اس طرح کے منصوبوں کے لیے لوگوں کی مدد کریں گے۔"

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کی طرف سے کئی بڑے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر جاری ہے جن پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ پن چکی مالکان کو بجلی پیدا کرنے کے لیے معمولی مالی معاونت درکار ہے۔

XS
SM
MD
LG