رسائی کے لنکس

’’بھارت کی مذاکرات پر رضا مندی خوش آئند ہے‘‘

  • حسن سید

پاکستاتی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب نیروپما راؤ کے ساتھ (فائل فوٹو)

پاکستاتی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اپنی بھارتی ہم منصب نیروپما راؤ کے ساتھ (فائل فوٹو)

بھارتی سیکرٹری خارجہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے رضامندی کا اظہار ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ مہینوں کے دوران کشمیری عوام کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں میں تیزی آئی ہے اور مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان نے بھارتی سیکرٹری خارجہ نیروپماراؤ کے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ نئی دہلی اسلام آباد کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالبا سط نے کہا کہ دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ بھارت نے ہی منقطع کیا تھا اور اب اگر وہ تنازعات کو حل کے لیے مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے تو پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ان کہنا تھا کہ بات چیت برائے بات چیت ہی نہیں ہونی چاہیئے بلکہ اس کا ٹھوس نتیجہ بھی نکلنا چاہیئے جو ان کے مطابق صرف تب ہی ممکن ہے اگر بھارت اپنے موقف میں تبدیلی لائے اور یہ تسلیم کرے کے کشمیر اس کا اٹوٹ انگ یا اندرونی معاملہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کا حل بھارتی دستور کے تحت ممکن ہے۔

ترجمان عبدالباسط

ترجمان عبدالباسط

انھوں نے کہا’’ہم کشمیر کا ایسا حل چاہتے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اور کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہو‘‘۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے امکانات کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کبھی بھی سیاسی یا سفارتی سطح پر ملاقاتوں سے گریز نہیں کیا ہے اور اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو پاکستان کی خواہش ہو گی کہ اس کے خاطر خواہ نتائج نکلیں اور دونوں ملک آگے بڑھنے کے لیے ایک ایجنڈے کو طے کریں ۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے رضامندی کا اظہار ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ مہینوں کے دوران کشمیری عوام کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں میں تیزی آئی ہے اور مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء اسلام آباد میں پاکستانی کشمیر کی تمام بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کی کانفرنس ہوئی جس میں صدرراجہ ذوالقرنین ، سابق صدر انور خان اور سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان شامل تھے۔

کانفرنس میں بھارتی کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی اور بھارت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیر کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرے ، ان کے حقوق کا تحفظ کرے اور متنازع قوانین کا خاتمہ کرے۔

شرکا نے متنبہ کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ایک کشمیر امن قافلہ حد بندی لائن عبور کر کے بھارتی کشمیر میں داخل ہو گا اور وہاں کے عوام کو امدادی سامان پہنچائے گا اور ان سے اظہار یکجہتی کرے گا۔

سردار انور خان،سکند حیات خان اور صدر پاکستانی کمشیر راجہ ذوالقرنین

سردار انور خان،سکند حیات خان اور صدر پاکستانی کمشیر راجہ ذوالقرنین

اس موقع پر سردار انور خان نے الزام عائد کیا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کےحل کی اہمیت کو موثر طور پر عالمی سطح پر اجاگر نہیں کر رہی۔

جبکہ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے بھارتی کشمیر میں طاقت کے استعمال کے خلاف جو متفقہ مذمتی قراردادیں منظور کی ہیں اس سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔

XS
SM
MD
LG