رسائی کے لنکس

لائن آف کنٹرول پر تناؤ کے باعث کشمیری خاندانوں کی مشکلات

  • روشن مغل

کشمیر کے دو حصوں کو ملانے والا پل

کشمیر کے دو حصوں کو ملانے والا پل

پاکستانی کشمیر کے حکام نے کہا کہ جب تک مسافروں کی سلامتی کی یقین دہانی نہیں کروائی جاتی اس وقت تک بس اور ٹرک سروس نہیں چل سکتی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر کشیدگی بدستور موجود ہونے کی وجہ سے معطل شدہ آرپار بس اور ٹرک سروس بحال نہیں ہو سکتی۔

کنٹرول لائن کے آرپار سفر اور تجارت کی نگرانی کے لیے قائم ادارے ’’ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی‘‘ کے سربراہ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد اسماعیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بس اور ٹرک سروس پر فائرنگ نہیں ہو گی۔ اس لیے مسافروں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالی جا سکتیں۔

ان کے بقول دو ہفتے قبل مبینہ طور پر بھارتی فوج کی طرف سے سامان تجارت لے کر کراسنگ پوائنٹ کی طرف جانے والے ایک ٹرک پر بھی فائرنگ کی گئی جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔

کشمیر کے آرپار سامان لے جانے والے ٹرک

کشمیر کے آرپار سامان لے جانے والے ٹرک

محمد اسماعیل نے کہا کہ راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان چلنے والی بس سروس کے ذریعے چار ہفتے قبل بھارتی کشمیر سے یہاں آنے والے منقسم کشمیری خاندانوں کے 108 اور یہاں سے بھارتی کشمیر جانے والے 110 افراد کنڑول لائن پر کشیدگی کی وجہ سے دونوں اطراف پھنس کر رہ گئے ہیں اور دونوں جانب سے سینکڑوں نئے مسافر ہفتہ وار بس سروس سے سفر کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک مسافروں کی سلامتی کی یقین دہانی نہیں کروائی جاتی اس وقت تک بس اور ٹرک سروس نہیں چل سکتی۔

’’کنٹرول لائن عبور کرنے والے ایک ایک فرد کے استقبال کے لیے درجنوں افراد کراسنگ پوائنٹ پر آتے ہیں اگر کسی کو کچھ ہوجائے تو آئندہ ایل او سی پر بس سروس کی کون ضمانت دے گا۔‘‘

دوسری طرف کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں مقیم لوگوں نے حالیہ کشیدگی کے بعد گھروں کے قریب بنکر تعمیر کرنا شروع کر دیے ہیں۔

منقسم کشمیری خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لیے کشمیر کے دو حصوں کے درمیان بس سروس کا آغاز اپریل 2005ء میں ہوا جو زلزلے کے باعث چند ماہ تک معطل رہی تھی۔

کنٹرول لائن کے سرحدی قصبہ چکوٹھی کے رہائشی ڈاکٹر طاہر رحیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کشیدگی کی وجہ سے یہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

فائربندی سے قبل یہ علاقہ کنٹرول لائن پار سے ہونے والی گولہ باری میں بری طرح متاثر ہوتا رہا ہے۔

تاہم کنٹرول لائن پر کشیدگی کے دوران مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان چکوٹھی کے راستے چلنے والی بس اور ٹرک سروس جاری رہی لیکن اس پر پاکستانی کشمیر کی جانب سے کسی نے سفر نہ کیا۔
XS
SM
MD
LG