رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب آباد خاندان ’خوفزدہ‘

  • روشن مغل

عارضی حدبندی کے قریب پاکستانی علاقے کے رہنے والوں کے بقول اس سے قبل جب بھی سرخ پرچم لہرائے جاتے رہے ہیں تو فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا رہا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کے ایک ہیڈکوارٹر پر ہونے والے مشتبہ دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان تلخ بیانات اور الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے وہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خاص طور پر لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے خوف و ہراس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اتوار کو اوڑی کے علاقے میں ہونے والے حملے میں 18 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد کشمیر کو تقسیم کرنے والی عارضی حدبندی پر بھارتی کشمیر میں فوج نے اپنی پوسٹوں پر سرخ پرچم لہرا دیے جو کہ انتہائی خطرے کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔

عارضی حدبندی کے قریب پاکستانی علاقے کے رہنے والوں کے بقول اس سے قبل جب بھی سرخ پرچم لہرائے جاتے رہے ہیں تو فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا رہا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ایک وادی کھلانہ کے محمد مشتاق منہاس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنی اور اپنے علاقے کے لوگوں کی تشویش کا کچھ یوں تذکرہ کیا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

"انھوں (بھارتی فورسز) نے جو اپنی پوسٹوں پر پرچم لگا دیے ہیں وہ انتہائی خطرے کی نشانی ہے اور وہاں جو رہنے والے ہیں وہ شدید خوف کا شکار ہیں آنے والے وقت میں کسی بھی وقت کیا ہو جائے بہت بے سکونی میں ہیں لوگ۔۔۔پہلے بھی جب فائرنگ ہوتی رہی ہے ہماری یونین کونسل کھلانہ بالکل (اس کا راستہ) کٹ کے رہ جاتا تھا کیونکہ ہمارا واحد راستہ کھلانہ جانے والا ایل او سی کے انتہائی قریب سے گزرتا ہے۔"

تاہم اس کشیدہ صورتحال کے باوجود بھی سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان ہفتہ وار بس سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔ قبل ازیں کشیدہ صورتحال میں یہ سروس معطل بھی ہوتی رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں متنازع علاقے کشمیر میں دونوں جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتا آیا ہے جو دونوں جانب جانی نقصان کا باعث بنا اور خاص طور پر لائن آف کنٹرول کے قریب واقع دیہاتوں سے لوگوں کی نقل مکانی کی خبریں بھی سامنے آچکی ہیں۔

پاکستان اور بھارت دونوں ہی 2003ء کے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG