رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر: انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کے سب سے بڑے ناقد اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ ن کو کشمیر میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

جمعرات کو 41 نشستوں پر انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے اور جمعہ کی صبح تک سامنے آنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کم ازکم 31 نشستیں لے کر واحد اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

کشمیر میں سابقہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو تین اور مسلم کانفرنس کو بھی تین نشستیں ملیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف کو دو، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کو ایک اور ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کشمیر میں صدر راجہ فاروق حیدر، مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق الرحمن اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم اپنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) پاکستان میں برسر اقتدار ہے اور تاریخی طور پر کشمیر کے اس حصے میں اسی جماعت کو کامیابی حاصل ہوتی رہی جو پاکستان میں برسراقتدار ہوتی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جمعہ کو ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں اپنی جماعت کی کامیابی پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرح اس علاقے میں بھی ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔

پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کے سب سے بڑے ناقد اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کو کشمیر میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ "گو کہ اسلام آباد میں برسراقتدار جماعت ہی روایتی طور پر کشمیر کے انتخابات جیتتی ہے، پھر بھی میں پی ایم ایل۔این کو مبارکباد دیتا ہوں۔"

پاکستانی کشمیر کی سابقہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے غیر سرکاری انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے تاہم اس بارے میں پیپلز پارٹی تاحال کسی طرح کے شواہد سامنے نہیں لا سکی ہے۔

کشمیر میں الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ اس مرتبہ شفاف انتخابات کے لیے ہر مکمن اقدامات کیے گئے ہیں اور انتخابات سے قبل کی گئی تیاریوں پر کسی بھی جماعت کی طرف سے تحفظات کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ یہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کروائے گئے اور مجموعی طور پر پولنگ کے مرحلے میں کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG