رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے نواح میں واقع مہاجرین کی سب سے بڑی بستی مانک پییان کیمپ میں لگ بھگ ساڑھے تین ہزار افراد آباد ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے 1990 میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر ہجرت کرنے والوں میں سے اب بھی لگ بھگ چالیس ہزار کشمیری مہاجرین مظفر آباد، باغ اور کوٹلی کے اضلاع میں قائم کیمپوں میں مقیم ہیں۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ اُنھیں مقامی حکومت کی طرف سے شناختی دستاویزات کی عدم فراہمی بے روزگاری اور گزارہ الاﺅنس میں اضافہ نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

ہجرت کر کے آنے والے ان افراد کو 1500 روپے فی کس ماہوار ادا کیے جاتے ہیں۔ لیکن گزشتہ دو ماہ سے انھیں گزارہ نہیں ملا اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے اُنھیں روزگار کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنے مسائل کے حل کے لیے یہ مہاجرین آئے روز سڑکوں پر آ کر صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں ۔

پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے نواح میں واقع مہاجرین کی سب سے بڑی بستی مانک پییان کیمپ میں لگ بھگ ساڑھے تین ہزار افراد آباد ہیں۔



اس کیمپ میں مقیم ایک مہاجرعزیر احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا وہ 23 سال سے یہاں مقیم ہیں لیکن ابھی تک شناخت سے محروم ہیں کیوں کہ اُنھیں پاکستانی کشمیر کے شہری ہونے کا درجہ نہیں ملا۔

’’ہم یہاں زمین نہیں خرید سکتے، بچے ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں یا ہندوستانی۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ اب بھی سینکڑوں مہاجر خاندانوں کے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں ہے۔
حکو مت پاکستان کی طرف سے 2007 مہاجرین کو شناختی کارڈ کا اجرا بھی روک دیا گیا تھا۔

اس صورت حال میں سینکڑوں مہاجر خاندان بھارتی کشمیر میں اپنے آبائی علاقوں کو واپس جا چکے ہیں ۔

مہاجرین کی آباد کاری پر مامور پاکستانی کشمیر کے محکمہ بحالیات کے کمشنر نبیل قریشی نے و ائس آف امریکہ کو بتایا کے نیا مالی سال شروع ہونے کی وجہ سے مہاجرین کو گزارہ الاﺅنس کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مہاجرین کے گزارہ الاﺅنس میں اضافہ اور شناختی کارڈ کا اجراءضروری ہے جس کے لیے پاکستان کی وفاقی حکومت سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔

نبیل قریشی نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے فنڈز مہیا کیے تو گزارہ الاﺅنس میں اضافہ کر دیا جائے گا اور سرکاری ملازمتوں میں مہاجرین کے لیے مختص چھ فیصد کوٹے پر عملد رآمد کے لیے بھی کمیٹی بنادی گئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG