رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر کے کامسر کیمپ میں تقریباً سات سو خاندانوں پر مشتمل 3200 افراد زلزلے کو آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی اب تک خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستانی کشمیر میں بھارت کی جانب سے 1989 میں ہجرت کر کے آنے والے سینکڑوں خاندان دارالحکومت مظفرآباد کے نواح میں کامسر کیمپ میں مقیم تھے لیکن 2005 کو آنے والے تباہ کن زلزلے سے ان کی رہائش گاہیں بھی صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور یہ لوگ اب تک کرائے کی زمینوں پر خیمے لگا کر زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں۔

اپنی مشکلات میں اضافے کے وجہ سے یہ لوگ سراپا احتجاج ہیں اور انھوں نے اپنی آبادکاری، گزارہ خرچ میں اضافے اور ملازمتوں کی فراہمی کے لیے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ بصورت دیگر وہ قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔

کامسر کیمپ میں تقریباً سات سو خاندانوں پر مشتمل 3200 افراد زلزلے کو آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی اب تک خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

مطالبات کے حل نہ ہونے کے خلاف مہاجرین کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔ مظاہرین نے کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔

مہاجرین نے کہا کہ حکومت کی طرف سے انھیں زمین مہیا کر نے کے بارے میں کئی بار وعدے کیے لیکن اب تک ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

مہاجرین نے مطالبات کے حل کے لیے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی کہ ا گر مسائل حل نہ ہوئے تو قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

احتجاج میں شامل ایک ستر سالہ مہاجر محمد حنیف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنے ردعمل کا اظہار کچھ یوں کیا۔

"ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے دس سال ہو گئے یہ کہتے ہیں آج دیں گے، کل دیں گے لیکن کچھ نہیں ملا، نہ جگہ ہے ہمارے پاس نہ گزارہ الاؤنس بڑھا اور نہ ہی کوٹہ سسٹم میں ہمارے لیے کوئی اضافہ ہوا۔"

پاکستانی کشمیر میں اسسٹنٹ رفیوجی ویلفیئر آفیسر قاضی فہیم کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے گزارہ الاؤنس کے لیے فنڈز درکار ہیں جس کے لیے وفاقی حکومت سے کہا جاچکا ہے۔ ان کے بقول فنڈز کی دستیابی کے بعد مہاجرین کا یہ مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔

1989 سے بھارتی کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستانی کشمیر میں پنا ہ لینے والے مہاجرین زیادہ تر مظفرآباد میں قائم بارہ مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں جن کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہے۔ حکومت کی طرف سے چند دیگر سہولتوں کے علاوہ اُنھیں ہر مہینے پندرہ سو روپے فی فرد کے حساب سے گزارہ خرچ دیا جاتا ہے۔

مہاجرین دارالحکومت مظفرآباد کے علاوہ باغ اور کوٹلی میں واقع تین کیمپوں میں بھی رہاش پذیر ہیں۔

بھارتی کشمیر کی حکومت کی طرف سے واپس آنے والوں کے لئے مراعات کے اعلان کے بعد گزشتہ بر س درجنوں خاندان نیپال کے راستے واپس بھارتی کشمیر چلے گئے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG