رسائی کے لنکس

کشمیر: فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث اسکولوں کی تعمیر نو تعطل کا شکار

  • روشن مغل

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ برس قبل تباہ کن زلزے سے متاثر ہونے والے 1,800 سرکاری اسکولوں کی تعمیر نو نا ہونے کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد بچے خیموں اور کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے سیکرٹری صادق ڈار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ صورت حال مقامی حکومت کے لیے بھی باعث تشویش ہے کیوں کہ اطلاعات کے مطابق یہ لوگوں کی دوسرے علاقوں میں منتقلی کا سبب بھی بن رہی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ پاکستانی کشمیر میں قائم سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد ساڑے پانچ لاکھ ہے۔

صادق ڈار کا کہنا تھا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے 1,800 اسکولوں کی تعمیر نو نہیں کی جاسکی، جب کہ ان میں سے نصف سے زائد اسکول ایسے ہیں جن کی تعمیر کے لیے سرے سے کوئی قدم ہی نہیں اٹھایا گیا۔

ان اسکولوں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت نے رقوم فراہم کرنا ہیں۔

سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ ان کا محکمہ زیرِ تعمیر اسکولوں کی تکمیل کے لیے فنڈز کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، اور طالب علموں کو موسم کی شدت سے محفوظ رکھنے کی خاطر نئے خیموں کے لیے بین الاقوامی اداروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں زلزلے میں تباہ ہونے والے صرف ایک بڑے سرکاری اسکول ’علی اکبر اعوان ہائی اسکول‘ کی عمارت کی تعمیر مکمل نہ ہونے کے 1,500 طالب علم خیموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے زلزلے سے بحالی و تعمیر نو ادارے ’اسٹیٹ ارتھکویک اینڈ ریہبیلٹیشن ایجنسی‘ یا سیراء کے سربراہ ڈاکٹر سید آصف حسین نے بتایا کہ اسکولوں کی تعمیر نو میں فنڈز کی عدم دستیابی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

’’اس ہی وجہ سے 800 سے زائد اسکولوں کی تعمیر کا کام سرے سے شروع ہی نہیں کیا جا سکا جب کہ 970 سے زائد زیرِ تعمیر اسکولوں پر کام تعطل کا شکار ہے۔‘‘

یاد رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ خیبر پختون خواہ میں اکتوبر 2005ء میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں 75 ہزار سے زائد افراد لقمہء اجل بنے جن میں اکثریت بچوں کی تھی جو اسکولوں کی عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG