رسائی کے لنکس

امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں: نواز شریف


امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات

امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات

امریکی سفیر سے گفتگو میں واشنگٹن میں ہونے والے جوہری سلامتی کے سربراہ اجلاس کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر صدر براک اوباما کے ساتھ دوطرفہ معاملات پر مفید تبادلہ خیال کرنے کے منتظر ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری سرکاری بیان کے مطابق یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے گفتگو میں کہی جنہوں نے ان سے جمعرات کو ملاقات کی۔

پاکستانی وزیراعظم نے گزشتہ برس اکتوبر میں امریکہ کا دورہ کیا تھا جس کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران اتفاق رائے سے کیے گئے فیصلوں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کو نئی بنیاد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ نے چھ ورکنگ گروپوں کے ذریعے دوطرفہ تعلقات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور نئے اہداف مقرر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کا وزارتی سطح کا چھٹا دور رواں ماہ کے آغاز میں واشنگٹن میں منعقد ہوا تھا۔

معروف تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ طویل عرصہ سے پاکستان کو اقتصادی اعانت فراہم کر رہا ہے اور پاکستان سے اقتصادی تعلقات کا فروغ اس کے مفاد میں ہے۔

’’روایتی طور پر امریکہ پاکستان کی اقتصادی طورپر مدد کرتا رہا ہے۔ دوسرا، امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی ریاست کو مضبوط کرنے سے اس علاقے میں دہشت گردی کو کنٹرول کرنا آسان ہے کیونکہ پاکستانی ریاست ہی امریکی شکایات کے باوجود ایک ذریعہ ہے جس سے آپ دہشت گردی کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی نقطہ نظر سے پاکستان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کیونکہ افغانستان میں امن لانے کے لیے انہیں پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف نے بھی امریکی سفیر سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی پاکستان کے لیے اہم ہے اور وہ اس سلسلے میں متواتر اور پر خلوص کوششیں کر رہا ہے۔

امریکی سفیر نے افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چار فریقی مذاکرات خطے میں امن کے لیے کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

افغانستان میں حکومت اور طالبان کے مابین مصالحتی عمل کی بحالی کے لیے گزشتہ دسمبر میں پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار فریقی گروپ نے اپنی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف رواں ماہ کے اواخر میں جوہری سلامتی سے متعلق واشنگٹن میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے ہیں اور امریکی سفیر سے گفتگو میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اجلاس کے موقع پر صدر براک اوباما کے ساتھ دوطرفہ معاملات پر مفید تبادلہ خیال کرنے کے منتظر ہیں۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ میں وزیراعظم نواز شریف کی جوہری کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سطح پر پاکستان کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوہری سلامتی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG