رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی میں کار بم دھماکا، 17 افراد ہلاک


قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کار بم دھماکے کا ایک منظر

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کار بم دھماکے کا ایک منظر

دھماکا جمرود بازار کی فوجی مارکیٹ کے قریب کھڑی ایک کار میں ہوا۔ جس کے بعد قریبی دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پیر کو ایک کار بم دھماکے میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

قبائلی انتظامیہ کے مطابق یہ دھماکا جمرود بازار کی فوجی مارکیٹ کے قریب کھڑی ایک کار میں ہوا۔ جس کے بعد قریبی دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

فوجی مارکیٹ جمرود کا مصروف ترین تجارتی علاقہ ہے اور عموماً وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں اور پیر کو جب دھماکا ہوا تو اس وقت بھی وہاں کافی بھیڑ تھی۔

زخمیوں کو جمرود اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بعض کی حالت تشویشناک بتائی ہے جس کے وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

فوجی مارکیٹ کے سامنے ہی قبائلی انتظامیہ کے دفاتر بھی واقع ہیں۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ متاہر زیب نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ حملہ علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

دفاعی اُمور کے ماہر بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران پشاور اور خیبر ایجنسی کے علاقے میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ضروری ہے کہ پشاور کے اردگرد کے علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔

دو روز قبل گزشتہ ہفتے کی شب 10 شدت پسندوں نے پشاور کے ہوائی اڈے کو راکٹوں اور بارود سے بھری گاڑی کو نشانہ بنایا، جس سے ہوائی اڈے کی بیرونی دیواروں کو نقصان پہنچا تاہم ائیر پورٹ محفوظ رہا۔

فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پانچ دہشت گردوں کو ہفتے کی رات ہی ہلاک کر دیا تھا جب کہ ان کے دیگر پانچ ساتھی اتوار کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔

دہشت گردوں کے اس حملے میں عام شہریوں سمیت متعدد افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کے مرکزی شہر پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اس سے قبل بھی شدت پسند عوامی مقامات، امن لشکر کے رضا کاروں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

رواں سال جون میں خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں ایک مسافر گاڑی میں بم دھماکے سے دو درجن سے زائد افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG