رسائی کے لنکس

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر جمعہ کو عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 10 اہلکار ہلاک جب جوابی کارروائی میں 23 شدت پسند بھی مارے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں ایک پہاڑی پر حال ہی میں قائم گئی فوجی چوکی پر درجنوں عسکریت پسندوں نے اچانک حملہ کر دیا جس کے بعد علاقے میں گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ جھڑپوں میں متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

افغان سرحد سے ملحق اس پاکستانی قبائلی علاقے میں اس سے قبل بھی سرکاری فوج اور طالبان کے حامی جنگجوؤں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ عسکریت پسند عناصر کی جانب سے خیرایجنسی کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی متعداد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ قبائلی علاقے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے لیے اہم ترین راہداری ہے جبکہ اس راستے سے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کو رسد بھی بھیجی جاتی رہی تاہم نومبر میں سلالہ سرحدی پوسٹوںٕ پر نیٹو کے مہلک حملے کے بعد سے پاکستان نے احتجاجا غیر ملکی افواج کی یہ اہم سپلائی لائن بند کر رکھی ہے۔

پاکستانی رہنما بار بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ سپلائی لائن کی بحالی اور مستقبل میں امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون کی سمت کا تعین ملک کی پارلیمان کرے گی۔

وزیر خارجہ حنا ربان کھر نے ایک روز قبل اسلام اباد میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تیار کردہ سفارشات پر بحث اور ان کی منظوری دی جائے گی جس کے بعد ہی پاک امریکہ تعاون بحال ہو گا۔

اُدھر پاکستانی حکام نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو خیبر ایجنسی کی وادی تیرہ کے ایک دوسرے علاقے میں ایک خودکش بمبار نے مخالف شدت پسند عسکری تنظیم ’لشکرِ اسلام‘ کے ایک اڈے پر دھماکا کر کے کم از کم 23 افراد کو ہلاک کردیا۔

تحریک طالبان کے ایک مقامی کمانڈر نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان دونوں عسکری تنظیموں کے درمیان طویل عرصے سے وادی تیرہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کی جنگ جاری ہے۔

دریں اثناء اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں کی بمباری میں 15 عسکریت پسند ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG