رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی میں جھڑپیں جاری، ہلاکتیں 70 ہوگئیں

  • شمیم شاہد

فائل

فائل

قبائلیوں نے بتایا ہے کہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں متحارب شدت پسند تنظیموں کے درمیان گھمسان کی لڑائی پیر کو چوتھے روز بھی جاری رہی

پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں متحارب شدت پسند تنظیموں کے مابین جھڑپیں پیر کو چوتھے روز بھی جاری رہیں۔

متحارب گروپ مالی اور جانی نقصانات کے بارے میں متضاد دعوے کر رہے ہیں۔ تاہم مقامی قبائلی ذرائع نے بتایا ہے کہ چار روز کے دوران مارے جانے والے افراد کی تعداد 70 سے تجاوز کر گئی ہے۔

قبائلیوں کے مطابق وادی تیراہ کے دور دراز علاقے دوفائی میں متحارب شدت پسند تنظیموں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور دونوں جانب سے جدید خودکار ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

دور افتادہ وادی تیراہ میں ذرائع ابلاغ کو رسائی حاصل نہ ہونے کے باعث لڑائی میں ہونے والے مالی اور جانی نقصانات کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی ہے۔

وادی تیراہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور شدت پسند تنظیم انصار الاسلام کے درمیان یہ جھڑپیں جمعہ کی صبح شروع ہوئی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق لڑائی کے باعث سینکڑوں قبائلی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کر رہے ہیں۔

وادی تیراہ تین مختلف قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع ہے اور اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائیاں کر چکی ہے۔

ادھر وادی تیراہ سے ملحقہ اورکزئی ایجنسی کے علاقے مسوزئی میں سکیورٹی فورسز نے توپ خانے کی مدد سے شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 10 شدت پسند مارے گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG