رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اکرم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موسم سرما میں سردی میں شدت آنے کے بعد نقل مکانی کرنے والے خاندانوں، خاص طور پر ان کے بچوں کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن ’خیبر ون‘ کے بعد تقریباً چھ لاکھ افراد وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

قبائلی علاقے میں آفات سے نمٹنے کے ادارے ’فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی‘ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے خاندانوں میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اکرم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موسم سرما میں سردی میں شدت آنے کے بعد نقل مکانی کرنے والے خاندانوں، خاص طور پر ان کے بچوں کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’’وائرس کی انفیکشن، بیکٹیریا کی انفیکشن اور تپ دق کے پھیلنے کا شدید خطرہ ہے اور اسی طرح پانی کی ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا بھی خطرہ ہے اور اس کے علاوہ ان کا سردی سے متاثر ہونے کا بھی خطرہ ہے کیونکہ ان کے پاس اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لیے کمبل نہیں ہیں۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لیے روایتی طریقے سے آگ جلاتے ہیں جس سے ان کے جلنے کا بھی خطرہ ہے۔‘‘

اس سال جون میں افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد وہاں سے بھی چھ لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کی، اور اُن میں سے زیادہ تر افراد خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں اپنے عزیزوں کے ہاں مقیم ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی ان کے گھرو ں کو واپسی فوج کی اولین ترجیح ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران فوج کے مطابق اب تک 1200 سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں جب کہ خیبر ایجنسی میں بھی درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG