رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی سے بے گھر ہونے والوں کی واپسی اسی ماہ متوقع

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

گورنر خیبر پختونخواہ سردار مہتاب احمد خان کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ یہ علاقہ شدت پسندوں سے پاک کروایا جا چکا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ رواں ماہ کے وسط سے شروع ہونے جا رہا ہے جب کہ اس عمل کی رجسٹریشن بدھ سے شروع ہو رہی ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف 'خیبر ون' کے نام سے آپریشن شروع کیا تھا جس میں اب تک درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے تقریباً 80 ہزار خاندان نقل مکانی کر کے پشاور سمیت خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

گورنر خیبر پختونخواہ سردار مہتاب احمد خان کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ یہ علاقہ شدت پسندوں سے پاک کروایا جا چکا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اپنے علاقوں کو واپس جانے والوں کے لیے امدادی رقوم بھی مختص کی گئی ہیں جب کہ جن لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے ان کی مالی اعانت بھی کی جا رہی ہے۔

"اگر کسی کا پورا گھر تباہ ہوا ہے تو اس کو چار لاکھ کی امدادی رقم ملے گی اور اگر گھر جزوی طور پر تباہ ہوا ہے تو ایک لاکھ 60 ہزار کی ادائیگی کی جائے گی یہ امداد ہر اس شخص یا خاندان کو ملے گی جس کا ذاتی نقصان ہوا ہے۔"

تاہم نقل مکانی کرنے والے اکثر لوگ اعلان کردہ امدادی رقوم سے خوش نہیں ہیں انھوں نے اس میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

باڑہ سے تعلق رکھنے والے شاہ فیصل آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے لوگ اپنے علاقوں میں واپس جانے پر خوش ہیں لیکن وہاں ان کی املاک کو جو نقصان پہنچا ہے ان کی تعمیر نو کے بارے میں وہ بہت فکر مند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو معاوضہ حکومت نے دینے کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی ہے۔

"جو پیکج دیا جا رہا ہے وہ انتہائی کم ہے اور نکلتے وقت کا پیکج بھی نہیں دیا گیا تھا اور ابھی واپسی کا پیکج بھی کم ہے لیکن لوگوں کو اس بات کی خوشی ہے کہ وہ واپس جارہے ہیں"۔

لیکن گورنر سردار مہتاب کہہ چکے ہیں کہ قبائلی علاقوں کے عمائدین اور رہنماؤں کے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے لوگوں کے نقصانات کی تفصیل تیار کریں اور حکومت اپنے طور پر بھی اس کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال جون سے جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں یہاں سے بھی لگ بھگ چھ لاکھ افراد نقل مکانی کر کے خیبر پختونخواہ میں مقیم ہیں اور حکام کے بقول ان کی واپسی کا عمل آئندہ ماہ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG