رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: سینکڑوں قبائلیوں کا احتجاج

  • شمیم شاہد

ہلاک ہونے والوں کے لواحقین

ہلاک ہونے والوں کے لواحقین

باڑہ خیبر ایجنسی میں تاجروں کی تنظیم کے صدر مکاف علی کی سربراہی میں احتجاجی مظاہرین کے 10 رکنی وفد نے گورنر خیبر پختون خواہ سے مذاکرات بھی کیے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں قبائلیوں نے گزشتہ رات 18 قبائلیوں کی پراسرار ہلاکت پر احتجاج کیا۔

مظاہرے میں شامل افراد نے 16 افراد کی لاشوں کے ساتھ بدھ کو پشاور میں گورنرہاؤس کے قریب سڑک پر دھرنا دیا۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ منگل کی شام سکیورٹی اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوس افراد نے گھروں میں گھس کر ان افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جب کہ سکیورٹی ذرائع نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار شدت پسند تنظیم لشکر اسلام ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سات افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔

مظاہرے میں شامل افراد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کا مطالبہ کے خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائیاں ختم کی جائیں۔ ان کی اکثریت کا موقف تھا کہ علاقے میں ہونے والی کارروائیوں میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔

گورنر ہاؤس کے باہر مظاہرین سے مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام فضل الرحمٰن گروپ کے مقامی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے تشدد کے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

باڑہ خیبر ایجنسی میں تاجروں کی تنظیم کے صدر مکاف علی کی سربراہی میں احتجاجی مظاہرین کے 10 رکنی وفد نے گورنر خیبر پختون خواہ سے مذاکرات بھی کیے۔

ادھر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے باڑہ خیبر ایجنسی میں ہونے والے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر خیبر پختون خواہ مسعود کوثر کو ہدایت کی ہے کہ وہ قبائلی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں۔

باڑہ میں گزشتہ کئی سالوں سے عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جب کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کر کے پشاور اور دیگر علاقوں میں سکونت اختیار کر رکھی ہے۔

رواں ہفتے باڑہ کے علاقے شلوبر میں درجنوں مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کر کے کم از کم چھ اہلکاروں کو ہلاک اور 16 کو زخمی کر دیا جب کہ جوابی کارروائی میں حکام کے بقول چار جنگجو بھی مارے گئے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG