رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: غیر اندراج شدہ افغان شہریوں کے خلاف کارروائی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تقریباً 318 گھروں میں رہائش پذیر غیر انداج شدہ لگ بھگ 1900 افغان شہریوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے قریب طورخم میں طویل عرصے سے ’’غیر قانونی‘‘ طور پر مقیم افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تقریباً 318 گھروں میں رہائش پذیر غیر انداج شدہ لگ بھگ 1900 افغان شہریوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔

عہدیدار کے مطابق پیر کو درجنوں کچے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔ مقامی قبائلی انتظامیہ کے مطابق افغان شہریوں کو ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ یہاں سے واپس افغانستان چلے جائیں لیکن جب اُس پر عمل درآمد نا کیا گیا تو مجبوراً کارروائی کا آغاز کرنا پڑا۔

حکام کے مطابق صرف غیر اندارج شدہ افغان شہریوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور اس کام میں قبائلی انتظامیہ کی مدد لیویز اور خاصا دار فورس کے اہلکار بھی کر رہے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کارروائی کئی روز تک جاری رہ سکتی ہے۔

قبائلی انتظامیہ کے مطابق اس سے قبل بھی اس علاقے میں غیر قانونی طور پر آباد افغان شہریوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا تھا لیکن اُنھوں نے دوبارہ یہاں گھر بنا لیے۔

غیر قانونی طور پر آباد افغان شہریوں کے خلاف حالیہ کارروائی کے آغاز کے بعد خیبر ایجنسی میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 80 کی دہائی میں لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں آئے تھے، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان میں مقیم ہیں۔

پاکستان میں اس وقت اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کی تعداد 17 لاکھ بتائی جاتی ہے جب کہ حکام کے مطابق لگ بھگ 10 غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزین بھی یہاں آباد ہیں۔

اگرچہ پاکستان طویل عرصے سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے لیکن دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملوں کے بعد پاکستان میں غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG