رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائی سے کم ازکم 18 'شدت پسند' ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ تازہ کارروائی اس قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ ہفتے شروع کیے گئے آپریشن "خیبر ون" کا حصہ تھی۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاکستانی فورسز نے کم ازکم 18 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق ہفتہ کو دیر گئے تحصیل باڑہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو جیٹ طیاروں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔

فضائی کارروائی میں کم ازکم 18 شدت پسند ہلاک اور ان کے زیر استعمال گولہ بارود کا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

یہ تازہ کارروائی اس قبائلی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ ہفتے شروع کیے گئے آپریشن "خیبر ون" کا حصہ تھی۔

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون سے ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1100 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

اس کارروائی کی وجہ سے شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ بہت سے عسکریت پسند ملحقہ خیبر ایجنسی میں بھی جاچھپے ہیں جب کہ یہاں پہلے سے شدت پسندوں کے مختلف گروہوں نے اپنی آماجگاہیں بھی قائم کر رکھی تھیں۔

شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے ملک میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال ماضی کی نسبت قدرے بہتر ہوچلی تھی لیکن حالیہ دنوں میں ایک بار پھر تشدد کی لہر میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور مختلف شہروں میں بم دھماکوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملے ہو چکے ہیں۔

حکام ان واقعات کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

خیبر ون آپریشن میں بھی اب تک تین درجن کے لگ بھگ شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ تحصیل باڑہ سے دور افتادہ وادی تیراہ میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں جب کہ یہاں کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی شروع ہے۔

اب تک ہزاروں افراد نقل مکانی کر کے خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر مقیم ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل شمالی وزیرستان میں بھی فوجی آپریشن کی وجہ سے تقریباً چھ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جو بنوں کے قریب عارضی کیمپ کے علاوہ دیگر علاقوں میں اپنے رشتے داروں اور کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں سے صاف کیے جانے والے علاقوں میں لوگوں کی واپسی جلد شروع ہوجائے گی لیکن ان کےبقول کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے یہ عمل جلد بازی میں شروع نہیں کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG