رسائی کے لنکس

وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی عمل داری بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کے ایک مضبوط گڑھ باغ میدان سے بھی جنگجوؤں کا صفایا کر کے پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی دور افتادہ وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے خلاف کیا جانا والا فوجی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق عسکری اعتبار سے اس انتہائی اہم وادی میں کامیاب کارروائی کے بعد حکومت کی عمل داری بحال کر دی گئی ہے۔

فوج کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کے ایک مضبوط گڑھ باغ میدان سے بھی جنگجوؤں کا صفایا کر کے پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی جمعرات کو وادی تیراہ کا دورہ کیا اور کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں سے ملاقات کی۔

اُنھوں نے علاقے میں تعینات کمانڈروں کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مقامی لوگوں کو پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑے۔

جنرل کیانی نے علاقے سے نقل مکانی کر کے جانے والے خاندانوں کی جلد از جلد واپسی اور اُن کی آباد کاری کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

وادی تیراہ میں مارچ کے وسط میں دو متحارت گروہوں لشکر اسلام اور انصار اسلام کے درمیان گھمسان کی لڑائی اور بیشتر علاقے پر اُن کے قبضے کے بعد ہزاروں کی تعداد مقامی افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

جس کے بعد فوج کو آپریشن شروع کرنا پڑا اور اس وادی میں کارروائی کے دوران بیسیوں جنگجو مارے گئے جب کہ متعدد فوجی بھی لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کی سرحدیں کرم اور اورکزئی ایجنسی سے بھی ملتی ہیں اور تقریباً 100 کلومیٹر پر پھیلی اس وادی کا بیشتر حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔

تین قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع یہ وادی عسکری اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے کیوں کہ کرم اور اورکزئی میں موجود سکیورٹی فورسز کو رسد کی ترسیل کے لیے جو راستے استعمال کیے جاتے ہیں اُن کو محفوظ بنانے کے لیے تیراہ کی چوٹیوں پر فوج کا کنڑول ضروری ہے۔
XS
SM
MD
LG