رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ: سخت سیکورٹی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد


بعض علاقوں میں ایسی شکایات بھی سامنے آئیں کہ بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے انتخابی نشانات موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے بھی پولنگ کا عمل تعطل کا شکار ہوا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہفتہ کو مقامی حکومتوں کی 41 ہزار سے زائد نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

ان نشتوں کے لیے 84 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں تھے پولنگ کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

مجموعی طور پر پولنگ کے دوران کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ تو پیش نہیں آیا لیکن مختلف علاقوں سے حریف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی کی خبروں کے علاوہ بعض جگہوں پر انتخابی بدانتظامی کی وجہ سے پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔

ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد اہل ووٹروں کے لیے 11000 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں سے تین ہزار کے لگ بھگ پولنگ اسٹیشنوں کو "انتہائی حساس" جب کہ چار ہزار سے زائد کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

ہر ووٹر کو سات مختلف نشستوں کے لیے ووٹ ڈالنے تھے جن میں ضلع و تحصیل کونسلوں کے لیے اُمیدواروں کو جماعتی بنیادوں پر جب کہ یونین اور نیبرہڈ کونسلوں کے لیے غیر جماعتی بنیادوں پر ووٹ دینا شامل تھا۔

بعض علاقوں میں ایسی شکایات بھی سامنے آئیں کہ بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے انتخابی نشانات موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے بھی پولنگ کا عمل تعطل کا شکار ہوا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جن امیدواروں کے انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر نہیں چھپ سکے یا غلط چھپ گئے وہاں جلد ہی دوبارہ انتخاب کروایا جائے گا۔

مقامی حکومتوں کے نظام کو عوام کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں برسر اقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف یہ کہتی آئی ہے کہ وہ اس صوبے میں بلدیاتی حکومتوں کے نظام کو نافذ کر کے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ ان کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون اور مدد فراہم کی ہے اور جو بدانتظامی کی شکایات سامنے آرہی ہیں اس کا ازالہ الیکشن کمیشن کو ہی کرنا ہے۔

صوبے کے مختلف علاقوں بشمول صوابی، بونیر، لوئر دیر کی یونین کونسلوں سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ وہاں مقامی روایات کے مطابق خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

الیکشن کمیشن نے اس طرح کی شکایات کی تحقیقات کا کہہ رکھا ہے، جب کہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے الیکشن کمیشن کو ایسے حلقوں کے انتخابات کو روک دینا چاہیئے جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔

XS
SM
MD
LG