رسائی کے لنکس

طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ پر خیبر پختونخواہ میں مظاہرے

  • شمیم شاہد

مظاہرین نے چارسدہ میں ایک گرڈ سٹیشن کو آگ لگا دی جبکہ صوابی میں پانی و بجلی کے ادارے ’واپڈا‘ کے سب ڈویژن آفس اور تحصیل ہیڈ کوارٹر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف جمعہ کو پرتشدد مظاہرے ہوئے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اُن کے علاقوں میں رمضان کے آغاز پر سحر اور افطار کے اوقات کے علاوہ طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت پانی و بجلی سے رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی ان شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔

جمعہ کو جن علاقوں میں مظاہرے ہوئے اُن میں پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، کوہاٹ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور کرک شامل ہیں۔

مظاہرین نے چارسدہ میں ایک گرڈ سٹیشن کو آگ لگا دی جبکہ صوابی میں پانی و بجلی کے ادارے ’واپڈا‘ کے سب ڈویژن آفس اور تحصیل ہیڈ کوارٹر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔

اس کے علاوہ کئی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کی رات نماز تراویخ کے بعد صوابی کے قریب چھوٹا لاہور کی مساجد میں لاؤڈسپیکر کے ذریعے لوگوں سے لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کے اعلانات کیے گئے جس پر ہزاروں افراد باہر نکل آئے۔

بعد ازاں مظاہرین نے صوابی انٹرچینج کی مقام پر پشاوراسلام آباد موٹروے کوہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

تاہم صوابی کے ضلعی پولیس افسر سجاد خان اورڈی سی صوابی مطیع اللہ خان موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو بجلی کی فراہمی کا یقین دلایا، جس پر مظاہرین پرُ امن طورپر منتشر ہوگئے۔ مظاہرین کی تعداد تین ہزار تک بتائی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے بجلی و پانی خواجہ آصف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ رمضان میں سحر و افطار کے وقت بجلی بند نہیں کی جائے گی مگر ملک کے مختلف شہروں میں سحری کے وقت لوڈ شیڈنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

خیبر پختونخوا کی حکومت وفاق سے بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف شکایت کرتی رہی ہے جبکہ وفاقی عہدیداروں کا موقف ہے کہ جن علاقوں میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کم اور بجلی چوری زیادہ ہے وہاں لوڈ شیڈنگ زیادہ کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG