رسائی کے لنکس

خیبرپختونخواہ: دہشت گردوں و انتہا پسندوں کی فہرست جاری

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

یہ تمام وہ افراد ہیں جو مختلف عسکریت پسند گروہوں کے سرکردہ کمانڈر اور جنگجو ہیں جن کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعام بھی رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے دہشت گردی و انتہا پسندی سمیت جرائم پیشہ عناصر کی فہرست جاری کی ہے جس میں 452 افراد اور نو گروہو کے نام درج ہیں۔

اس فہرست میں مبینہ طور پر افغانستان سے تعلق رکھنے والے چار گروہوں کے نام بھی شامل ہیں جو حکام کے بقول صوبے اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں تشزدد پر مبنی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

تاہم ان کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق فہرست میں 75 افراد کو درجہ اول یعنی "کیٹیگری اے" میں رکھا گیا ہے۔

یہ تمام وہ افراد ہیں جو مختلف عسکریت پسند گروہوں کے سرکردہ کمانڈر اور جنگجو ہیں جن کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعام بھی رکھا گیا ہے۔

دیگر افراد ملک میں دہشت گردوں اور انتہا پسندی کی معاونت، مختلف جرائم، ریاست اور سماج دشمن سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

خیبر پختونخواہ پاکستان کا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے صوبہ ہے اور خاص طور پر قبائلی علاقوں سے ملحق ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے زیادہ ردعمل بھی اسی صوبے میں دیکھا گیا ہے۔

2014ء کے اواخر میں ملک کی سیاسی قیادت نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کے ساتھ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک قومی لائحہ عمل ترتیب دیا تھا اور چاروں صوبوں میں اس پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے اپیکس کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تھیں۔

غیر جانبدار حلقوں کے علاوہ ملک کی فوج کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ قومی لائحہ عمل پر پوری طرح سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن افراسیاب خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبائی سطح پر نیشنل ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد کیے بغیر دہشت گردی و انتہا پسندی پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔

صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا موقف ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام خطرات سے آگاہ ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر شر پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ منافرت پھیلانے والوں کو بھی قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG