رسائی کے لنکس

تیراہ میں لڑائی جاری، ’15 جنگجو اور ایک فوجی ہلاک‘


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں جاری لڑائی میں اب تک عسکری حکام نے 24 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 125 سے زائد عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی دور افتادہ وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے اور تازہ جھڑپوں میں 15 مزید جنگجو ہلاک ہو گئے۔

عسکری ذرائع کے مطابق جروبی کے علاقے میں ہونے والی تازہ جھڑپوں میں ایک فوجی بھی ہلاک ہوا۔

گزشتہ جمعہ سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں جاری لڑائی میں اب تک عسکری حکام نے 24 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مجموعی طور پر 125 سے زائد عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

وادی تیراہ کی اہم پہاڑی چوٹیوں اور علاقے پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کی اتحادی شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کی انصار اسلام کے جنگجوؤں سے لڑائی کئی ہفتوں سے جاری تھی۔

لیکن مارچ کے اوائل میں ان شدت پسند تنظیموں کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آئی اور دونوں جانب سے جدید خود کار اسلحے کے علاوہ بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا جاتا رہا۔

وادی تیراہ میں متحارب گروپوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد مارچ کے وسط سے اس قبائلی علاقے سے لگ بھگ 45 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

عسکری اعتبار سے انتہائی اہم وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ ہفتے ایک بار پھر کارروائی شروع کی اور سرکاری ذرائع کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر کے بیشتر علاقے پر فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔

جس علاقے میں لڑائی جاری ہے وہاں تک میڈیا کو براہ راست رسائی نہیں اس لیے جانی نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

وادی تیراہ کی سرحدیں دو دیگر قبائلی علاقوں کرم اور اورکزئی ایجنسی سے بھی ملتی ہیں اس لیے اس قبائلی علاقے کی پہاڑی چوٹیوں کو عسکری اعتبار سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG