رسائی کے لنکس

ساحل اپنے والد کے ہمراہ واپس برطانیہ پہنچ گیا


ساحل اپنے والد کے ہمراہ واپس برطانیہ پہنچ گیا

ساحل اپنے والد کے ہمراہ واپس برطانیہ پہنچ گیا

وہ پانچ سالہ برطانوی بچہ جسے تقریباً دو ہفتے تک تاوان وصول کرنے کے لیے پاکستان میں یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا، بحفاظت واپس برطانیہ پہنچ گیا ہے۔

ساحل سعید اور اُس کے والد راجا نقّاش سعید جمعرات کے روز شمالی انگلستان کے شہر مانچسٹر پہنچ گئے۔

جمعرات کے روز اس سے پہلے وہ دونوں اسلام آباد میں برطانوی ہائى کمیشن کی عمارت میں دوبارہ یکجا ہوگئے تھا۔

اُس وقت ساحل ہائى کمیشن کے سبزہ زار میں فٹ بال کھیلتے ہوئے بظاہر بہت خوش نظر آرہا تھا۔

ساحل سعید کو وسطی پاکستان میں چار مارچ کو اُس کے دادا اور دادی کے گھر سے وہ ڈاکو اُٹھا کر لے گئے تھے، جنہوں نے ڈاکے کے دوران گھر کے باقی لوگوں کو بندوقیں تان کر بے بس کیے رکھا تھا۔

ساحل کو منگل کے دن کوئى نقصان پہنچائے بغیر رہا کردیا گیا تھا۔ اس سے پہلے اُس کے خاندان نے ڈاکوؤں کو ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر کی رقم تاوان کے طور پر ادا کردی تھی۔

سپین اور فرانس میں پولیس نے بدھ کے روز ساحل کے اِغوا کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔ اور تاوان کی رقم بھی بازیاب کرلی تھی۔

سپین کی پولیس نے دو پاکستانی مَردوں اور رومانیہ کی ایک عورت کو منگل کے روز شمال مشرقی سپین کے شہر تارا گونا کے قریب کونسٹانٹی نامی قصبے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو نے پیرس میں ساحل کے والد سے تاوان کی رقم وصول کی تھی۔

باقی دو افراد کو پیرس میں گرفتار کیا گیا ۔

حکام نے شروع میں کہا تھا کہ اُنہیں شبہ ہے کہ اِغوا کے واقعے میں ساحل کے خاندان کے افراد ملوّث ہوسکتے ہیں۔ اب پاکستان میں اور بیرونِ ملک تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ وہ بدستور اس بارے میں چھان بین کررہے ہیں کہ اِغوا کا ذمّے دار کون تھا۔

XS
SM
MD
LG