رسائی کے لنکس

بھارتی فورسز کی 'فائرنگ' سے زخمی پاکستانی کشمیری شہری دم توڑ گیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کشمیر کو منقسم کرنے والی عارضی حد بندی "لائن آف کنٹرول" کے آر پار فورسز کی فائرنگ کے تبادلوں سے ہونے والی ہلاکت کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ متنازع علاقے کشمیر میں عارضی سرحد کے پار سے بھارتی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

محمد وسیم نامی شہری کا تعلق پاکستانی کشمیر سے بتایا جاتا ہے جو حکام کے بقول ہفتہ کو چڑی کوٹ سیکٹر میں بھارتی فورسز کی "بلا اشتعال" فائرنگ کے دوران گردن میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔

اس شخص کو راولپنڈی میں ایک فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ اتوار کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

کشمیر کو منقسم کرنے والی عارضی حد بندی "لائن آف کنٹرول" کے آر پار فورسز کی فائرنگ کے تبادلوں سے ہونے والی ہلاکت کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستانی فوج کے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ ایسے ہی واقعات میں دونوں جانب پانچ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے چار کا تعلق پاکستان سے تھا۔

اسلام آباد نے فائربندی کی خلاف ورزیوں پر گزشتہ ہفتے بھارت سے احتجاج کرنے کے علاوہ اقوام متحدہ کے فوج مبصر مشن برائے پاکستان و بھارت سے بھی اس کا نوٹس لینے کی درخواست کی تھی جس پر اوائل ہفتہ مبصر مشن کے عہدیداروں نے پاکستانی کشمیر میں سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ سے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کیا تھا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ ہی روس کے شہر اوفا میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات میں دو طرفہ کشیدگی اور سرحد پر پیش آنے والے تشدد کے واقعات کے تدارک کے لیے اقدام پر اتفاق کیا گیا تھا۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں میں تعلقات روز اول ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں جن میں اکثر کشیدگی ہی غالب رہی۔ تعلقات کو معمول پر لانے کی اب تک کی جانے والی کوششیں تاحال ثمر بار نہیں ہو سکیں جب کہ امریکہ بھی یہ کہہ چکا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی خطے کی ترقی و سلامتی کے لیے مضر ہے لہذا انھیں اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے باہمی طور پر حل کرنے چاہیئں۔

XS
SM
MD
LG