رسائی کے لنکس

کوہاٹ میں مقامی شیعہ رہنما قتل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پولیس کے مطابق جمعہ کی صبح امام بارگاہ کے متولی شیر محمد طوری کو شہر کے ایک مرکزی چوک کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر کوہاٹ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک امام بارگاہ کے متولی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق جمعہ کی صبح امام بارگاہ کے متولی شیر محمد طوری کو شہر کے ایک مرکزی چوک کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق ایک گولی شیر محمد طوری کے سر میں بھی لگی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

شیر محمد طوری کا تعلق قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے تھا لیکن وہ طویل عرصے سے کوہاٹ ہی میں مقیم تھے۔

کرم ایجنسی کے علاوہ اس سے ملحقہ اضلاع ہنگو اور کوہاٹ شیعہ سنی فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں رہے۔

گزشتہ سال نومبر میں ماہ محرم کے دوران عاشورہ کے موقع پر راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے قریب فرقہ وارانہ تصادم میں کم از کم 11 افراد کی ہلاکت کے بعد اس کشیدگی کے اثرات ہنگو اور کوہاٹ میں بھی دیکھے گئے۔

راولپنڈی میں ہلاکتوں کے خلاف ہنگو اور کوہاٹ میں احتجاج میں شدت کے بعد مقامی انتظامیہ نے کچھ وقت کے لیے کرفیو بھی نافذ کیا تھا۔

پاکستان میں حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے کئی مذہبی رہنماؤں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

تشدد کے اس سلسلے کے خاتمے کے لیے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور سردار یوسف نے رواں ہفتے کہا تھا کہ حکومت مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے لیے ایک لائحہ عمل وضع کرنے پر کام کر رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG