رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اُٹھائے: نواز شریف


وزیر اعظم کے خصوصی معاون مفتح اسماعیل کے مطابق آئندہ دو سال میں جنوبی کوریا سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان جنوبی کوریا کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین ملک ہے اور انہیں یہاں کی ’’بہتر ہوتی ہوئی معیشت‘‘ کا فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

انھوں نے یہ بات پیر کو جنوبی کوریا کے ہم منصب چُنگ ہونگ وُن سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون پر زور دیتے ہوئے کہی۔

نواز شریف نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ کوریا کے سرمایہ کار پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کریں اور بلوچستان میں کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھر اور مائع گیس کے لیے ٹرمینلز کی تعمیر اس کے لیے بہترین منصوبے ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پہلے ہی جنوبی کوریا کے ساتھ آزاد تجارت کا ایک جامع معاہدہ تجویز کیا ہوا ہے اور اس پر جلد دستخط اور عملدرآمد سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے تجارتی حجم میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق جنوبی کوریا کے وزیراعظم کا بھی کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی و تجارتی شعبے میں تعاون بڑھانا چاہیئے۔

وزیر اعظم کے خصوصی معاون اور سرمایہ کاری بورڈ کے چئیرمین مفتح اسماعیل نے ملاقات کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات سمیت پاکستان میں کاروبار کرنے کو آسان بنانے کے لیے کئی انتظامی اور قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

ان کے اندازے کے مطابق آئندہ دو سال میں جنوبی کوریا سے ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

مفتح اسماعیل نے اعتراف کیا کہ خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں کاروبار کرنے سے متعلق زیادہ مشکلات ہیں۔

’’جہاں مشکلات ہیں تو وہاں ہم انہیں زیادہ منافع بھی دے رہے ہیں۔ پھر ہماری معیشت اتنی بڑی ہے کہ یہاں بڑے سے بڑا منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔‘‘

عالمی بینک کے مطابق کاروبار کے فروغ سے متعلق اصلاحات کے اعتبار سے پاکستان کی درجہ بندی میں تین درجے تنزلی ہوئی ہے اور دنیا کے 189 ممالک میں یہ 110 ویں نمبر پر ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں سے چھ نے کاروبار شروع کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات مکمل کر لی ہیں تاہم پاکستان ان میں شامل نہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران کے علاوہ ملک میں خونریز دہشت گردی سے سلامتی کی خراب صوتحال بھی پاکستان میں سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

تاہم وزیراعظم کے معاون کا کہنا تھا کہ حکومت اسے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

’’سیکورٹی سے متعلق مشکلات ہیں مگر وہ ایک علاقے تک محدود ہیں یعنی قبائلی علاقے تک۔ تو کوریا کا سرمایہ کار تو وہاں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ میرے خیال میں سیکورٹی کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں۔ تاثر جتنا برا ہے، حقیقت اتنی بری نہیں ہے۔‘‘

مفتح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک مخصوص زون بنانے کی بھی تجویز ملاقات میں پیش کی گئی جس میں انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔

گزشتہ ایک دہائی سے جاری شدت پسندی میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور ںواز شریف انتظامیہ نے اس خونریز عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چار دہائیوں میں جنوبی کوریا کے کسی بھی وزیراعظم کے اس پہلے دورہ پاکستان میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور تونائی کے شعبوں میں ایک معاہدہ اور تین مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔
XS
SM
MD
LG