رسائی کے لنکس

رواں ماہ کے اوائل میں قطری شہزادوں نے پنجاب کے علاقے بھکر میں بھی اس پرندے کے شکار کے لیے کئی روز تک قیام کیا تھا۔

خیبر پختونخواہ کی حکومت نے قطر کے شہزادوں کو معدومی کے خطرات سے دوچار پرندے "تلور" کے صوبے میں شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق شکار کے لیے وفاقی حکومت نے درخواست کی تھی۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد جنگلی حیات کا محمکہ بھی صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اور خیبرپختونخواہ کی حکومت اس پرندے سمیت معدومی کی خطرے سے دوچار کسی بھی پرندے اور جانور کے شکار کی اجازت نہیں دے گی۔

موسم سرما میں یہ پرندے بڑی تعداد میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور ان کے شکار کے دلداہ خلیج اور عرب ریاستوں کے شاہی خاندانوں کے افراد بھی تواتر سے پاکستان آتے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں قطری شہزادوں نے پنجاب کے علاقے بھکر میں بھی اس پرندے کے شکار کے لیے کئی روز تک قیام کیا تھا۔

تلور کا شمار عالمی سطح پر معدمی کے خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس دنیا بھر میں اس پرندے کی تعداد صرف ایک لاکھ کے قریب ہے۔

اسی بنا پر اس پرندے کے غیر قانونی شکار پر پابندی عائد ہے۔

رواں سال کے اوائل میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اس شکار پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عرب شیوخ روایتی انداز میں بازوں کے ذریعے تلور کا شکار کرتے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اس سرگرمی سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

جنگلی حیات کی بقا کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے سرگرم کارکنان یہ کہتے آ رہے ہیں کہ منظم انداز میں شکار میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ شکار کے ساتھ ساتھ اس پرندے کی افزائش کے لیے بھی اقدام کیے جائیں۔

XS
SM
MD
LG