رسائی کے لنکس

خیبرپختونخواہ: صحافیوں پر دہشت گرد حملوں کا انتباہ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کا شمار دنیا میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین تصور کیے جانے والے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ سال بھی ایک درجن سے زائد صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبرپختوںخواہ کے محکمہ داخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ شدت پسند گروہ آئندہ آنے والے دنوں میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں پر حملے کر سکتے ہیں۔

منگل کو جاری ایک انتباہی پیغام میں اس خطرے کے پیش نظر صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو اپنے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا کہا گیا۔

خیبر پختونخواہ پاکستان میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں بم دھماکوں کے علاوہ ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں بھی معمول کا حصہ رہی ہیں لیکن گزشتہ سال شدت پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد ماضی کی نسبت ایسے ہلاکت خیز واقعات میں کمی دیکھی گئی۔

صحافتی برادری نے محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری پیغام کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ایک طرف فوجی آپریشن میں شدت پسندوں کو صفایا کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف شدت پسندوں کے حملوں کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہو جو خطرے کی ایک نئی گھنٹی ہے۔

پشاور پریس کلب کے ایک عہدیدار شاہد حمید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس ضمن میں سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ پتا لگانے کی ضرورت ہے کہ یہ خطرات کہاں سے جنم لے رہے ہیں۔

’’سکیورٹی ایجنیسوں کو چاہیے کہ وہ تحقیقات کریں۔۔۔ میڈیا ہاؤسز نے اپنے انتظامات تو کر رکھے ہیں لیکن جب محکمہ داخلہ انتباہ جاری کرتا ہے تو پھر حکومت اور سکیورٹی کے اداروں کو میڈیا ہاؤسز کی حفاظت کے لیے انتظامات کرنے چاہیئں۔‘‘

پاکستان کا شمار دنیا میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین تصور کیے جانے والے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ سال بھی ایک درجن سے زائد صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

صحافتی تنظیمیں یہ کہتی آئی ہیں کہ پاکستان میں اس شعبے سے وابستہ افراد کی زندگی کو لاحق خطرات کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے چاہیئں اور ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جس میں صحافی غیر جانبداری سے اپنا کام کر سکیں۔

دہشت گردی کے شکار اس ملک میں مختلف شدت پسند گروپوں کی طرف سے بھی صحافیوں کو ان کا موقف من و عن لوگوں تک نہ پہنچانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جب کہ حکومتی عہدیداروں کی طرف سے یہ ہدایات آتی ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے بیانات کو اپنی خبر میں شامل نہ کریں۔

XS
SM
MD
LG