رسائی کے لنکس

امیر حیدر خان ہوتی کے قافلے پر خودکش حملہ

  • شمیم شاہد

وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی (فائل فوٹو)

وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی (فائل فوٹو)

ضلعی حکام کے مطابق وزیراعلٰی کے قافلے نے جس شاہراہ سے گزرنا تھا اس پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک بند کر دی گئی تھی اور رش نا ہونے کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ کے قافلے کو جمعہ کے روز ایک خودکش بمبار نے نشانہ بنایا تاہم اس میں امیر حیدر خان ہوتی اور ان کے قافلے میں شامل تمام افراد محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اپنے آبائی علاقے مردان میں ایک جلسے سے خطاب کے لیے جا رہے تھے کہ مردان یونیورسٹی کے قریب گھات لگائے ایک خودکش بمبار نے پیدل چلتے ہوئے ان کے قافلے پر پہلے دستی بم پھینکا اور پھر اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

ضلعی حکام کے مطابق وزیراعلٰی کے قافلے نے جس شاہراہ سے گزرنا تھا اس پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک بند کر دی گئی تھی اور رش نا ہونے کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا۔

امیر حیدر خان ہوتی اس حملے کے بعد جلسہ گاہ بھی گئے جہاں اُنھوں نے شرکاء سے خطاب کیا۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب جمعرات کو امیر حیدر خان ہوتی کی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں مذاکرات کے ذریعے قیام امن پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اُدھر جمعہ کو قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں آٹھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔
XS
SM
MD
LG