رسائی کے لنکس

پرویز خٹک نے صوبے میں سرمایہ کاری کے آغاز، بے روزگاری کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، اچھی طرز حکمرانی کے لیے اپنے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جلد از جلد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا بھی عندیہ دیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے نو منتخب وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ صوبے سے بدعنوانی کے خاتمے سمیت عوام کو صحت و تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہو گی۔

جمعہ کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ایسے مثالی اقدامات کرے گی جس سے لوگوں کو محسوس ہو گا کہ جس تبدیلی کے لیے انھوں نے ووٹ دیا وہ آنا شروع ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں کوئی بھی شعبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اور اسی باعث ان کی حکومت کو تمام شعبوں میں بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کرنا ہوں گے۔
انھوں نے صوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک خودمختار کمیشن بنانے اور عوام کے لیے شکایات سیل قائم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی طرح کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

’’ سب سے پہلے صوبے سے کرپشن ختم کرنا ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو کسی نہ استحصال نہ کیا جائے، ایک ایسا صوبہ ہو جہاں امن ہو، روزگار ہو، کاروبار ہو، تعلیم و صحت کی سہولت ہو، تاکہ ایک نئے خیبر پختونخواہ کی منزل کی طرف ہم گامزن ہوں۔‘‘

پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے کے عوام کو صحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ان کی حکومت اس شعبے میں ہنگامی حالت نافذ کرے گی اور ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کو عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کے احکامات دیے جائیں گے۔

پرویز خٹک نے صوبے میں سرمایہ کاری کے آغاز، بے روزگاری کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، اچھی طرز حکمرانی کے لیے اپنے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جلد از جلد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا بھی عندیہ دیا۔

پاکستان کا یہ صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس ضمن میں نو منتخب وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی اس بارے میں کوئی واضح اور پر اثر حکمت عملی وضع کرے۔ ان کے بقول ایسی کوئی بھی پالیسی جو صوبے میں امن وامان کے قیام کے لیے مددگار ہو ان کی حکومت اس پر وفاق کی مکمل حمایت کرے گی۔

اس سے قبل ایوان میں حزب مخالف کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی مہتاب عباسی نے پرویز خٹک کو قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے جب ایک جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد اقتدار دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منتخب حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
عمران خان کی جماعت تحریک انصاف 11 مئی کے انتخابات میں ملک کے سیاسی افق پر تیسری بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں اسے اکثریت ملی۔

صوبے میں حکومت سازی کے لیے تحریک انصاف نے آفتاب شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی سے اتحاد کیا ہے۔

قبل ازیں وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے ہونے والی رائے شماری میں پرویز خٹک نے 84 جب کہ ان کے مدمقابل جمیعت علمائے اسلام (ف) مولانا لطف الرحمن نے 37 ووٹ حاصل کیے۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار وجہیہ الزمان جمیعت کے امیدوار کے حق میں دستبردارہوگئے۔
صوبائی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

دریں اثناء جمعہ کی شام گورنر خیبر پختونخواہ انجینیئر شوکت اللہ نے پرویز خٹک سے صوبے کے وزیراعلیٰ کا حلف لیا۔ علاوہ ازیں سراج الحق اور سکندر شیرپاؤ نے بھی بحیثیت سینیئر صوبائی وزراء اپنے منصب کا حلف لیا۔
XS
SM
MD
LG