رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ کی سرکاری جامعات میں تدریس کا عمل معطل


خیبر پختونخواہ کی سرکاری جامعات میں تدریس کا عمل معطل

خیبر پختونخواہ کی سرکاری جامعات میں تدریس کا عمل معطل

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے مغوی وائس چانسلر پروفیسر محمد اجمل خان کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاج کے طور پر صوبہ خیبر پختون خواہ کی تمام سرکاری جامعات میں پیر سے تدریس کا عمل غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

اتوار کے روز پروفیسر اجمل خان کی دوسری وڈیو فلم منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم نے مغوی وائس چانسلر اور اُن کے ڈرائیور کی بازیابی تک تدریس کا عمل روکنے کا اعلان کیا تھا۔

وڈیو فلم میں پروفیسر اجمل خان نے حکومت سے اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طالبان شدت پسندوں نے 20 نومبر تک اپنے مطالبات منظور نا ہونے کی صورت میں اُن کو جان سے مار دینے کی دھمکی دی ہے۔مغوی پروفیسر کا کہنا تھا کہ اُن کی صحت خراب ہے۔

وڈیو فلم میں تمام وقت تین مسلح افراد اُن کے عقب میں کھڑے دکھائی دیے لیکن اُنھوں نے اپنے چہرے نقاب سے ڈھانپ رکھے تھے۔

طالبان شدت پسندوں نے پروفیسر اجمل خان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم تاحال اُن کے مطالبات کی تفصیل منظر عام پر نہیں آئی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ مقامی حکومت پروفیسر اجمل خان کی بازیابی کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔

مغوی پروفیسر نے اپنی پہلی وڈیو فلم میں صوبائی حکومت سمیت خیبر پختون خواہ میں حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں سے اُن کی رہائی میں مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

وائس چانسلر محمد اجمل خان کو نامعلوم افراد نے سات ستمبر کو اس وقت اغواء کر لیا تھاجب وہ گھر سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طرف جا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG