رسائی کے لنکس

پشاور کے مضافات میں فوجی قافلے پر حملہ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کے قافلے پر یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب دو روز قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے 40 روز سے جاری 'فائر بندی' میں توسیع نا کرنے کا اعلان کیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں جمعہ کو سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر فائرنگ کی گئی جب کہ گاڑیوں کو دیسی ساخت کے بم سے نشانہ بھی بنایا گیا، جس میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے قافلے کو فرنٹئیر روڈ پر عزیز مارکیٹ کے علاقے میں پہلے سے نصب دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں نے فوجی قافلے پر فائرنگ بھی کی جس پر جوابی کارروائی بھی کی گئی۔

زخمیوں کو پشاور میں مسلح افواج کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ فوری طور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملے میں ملوث مشتبہ افراد کی تلاش شروع کردی۔

عہدیداروں کے مطابق فورسز کا قافلہ معمول کے گشت پر تھا جب اُسے نشانہ بنایا گیا۔ تاحال اس حملے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

فوج کے قافلے پر یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب دو روز قبل ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے چالیس روز سے جاری 'فائر بندی' میں توسیع نا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ وفاق کی طرف سے یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ وہ اب بھی مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے لیکن اس طرح کے حملوں کے بعد بات چیت کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شہبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اُدھر جمعرات کو نصف شب کے بعد قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل میں واقع سکیورٹی فورسز کے قلعے میں قائم اسلحہ کے ڈپو میں آتشزدگی کا واقعہ بھی پیش آیا۔

تاہم حکام کے مطابق اس میں کسی طرح کے جانی نقصان نہیں ہوا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلحہ کے ڈپو میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی لیکن بعض متضاد اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں نے خودکار اسلحے اور راکٹ لانچروں سےاس قلعے پر حملہ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG