رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ میں بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کی مہم

  • شمیم شاہد

صوبائی وزیر صحت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ صحت کا انصاف کے نام سے یہ مہم شروع کی گئی ہے جس میں 21 اپریل تک سات لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سمیت نو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین پلائی اور ٹیکے لگائے جائیں گے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے مرکزی شہر پشاور میں اتوار کو کمسن بچوں کو پولیو سمیت نو مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور قطرے پلانے کی مہم کا آغاز کیا۔

صوبائی وزیرصحت شوکت علی یوسفزئی نے بتایا کہ اس مہم کے دوران 46 یونین کونسلوں میں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کے بچوں کو ویکسین دینے کے علاوہ لوگوں کو صحت عامہ سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صحت کا انصاف کے نام سے یہ مہم شروع کی ہے جس میں 21 اپریل تک سات لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سمیت نو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین پلائی اور ٹیکے لگائے جائیں گے۔

’’نہ صرف بچوں کو نو خطرناک امراض سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور ٹیکے لگائے گئے بلکہ والدین میں شعور و آگاہی پر مبنی پمفلٹس کی تقسیم کے علاوہ کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔ ان میں تولیے، بالٹی صابن اور ایسی اشیا بھی فراہم کی گئیں کہ وہ اپنے بچوں کو صاف ستھرا رکھیں یہ صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔‘‘

اس مہم کے دوران لگ بھگ آٹھ ہزار رضاکاروں نے حصہ لیا اور جب کہ سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

شہر میں اتوار کو موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی تھی جب کہ شام پانچ بجے تک مختلف علاقوں میں موبائیل فون سروس بھی معطل رہی۔

مجموعی طور پر یہ مہم پرامن انداز میں جاری رہی صرف دو مقامات سے اس میں خلل ڈالنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

سکندر ٹاؤن کے علاقے میں نامعلوم شدت پسندوں نے اسلحے کی نوک پر دو رضا کاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا جب کہ انقلاب روڈ پر نامعلوم حملہ آوروں نے رضا کاروں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا۔

صوبائی حکومت نےگزشتہ اتوار کو یہ مہم شروع کرنی تھی لیکن سکیورٹی کے انتظامات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اسے موخر کرنا پڑا۔

وزیرصحت شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پشاور میں اس مہم کی کامیابی کے بعد صوبے کے دیگر 12 اضلاع میں بھی اسی نمونے اور منصوبے کے تحت یہ مہم چلائی جائے گی۔

خیبر پختونخواہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ مہینوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر شدت پسندوں کی طرف سے ہلاکت خیز حملے ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ مہم متعدد بار تعطل کا شکار بھی ہوچکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت پشاور کو دنیا میں پولیو کا سب سے بڑا گڑھ قرار دیتے ہوئے متنبہ کر چکا ہے کہ اگر انسداد پولیو مہم تواتر سے جاری نہ رہی تو ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکے گا۔
XS
SM
MD
LG