رسائی کے لنکس

خیبرپختونخواہ: ہزاروں مخصوص نشستوں کے لیے صرف 339 غیر مسلم میدان میں

  • شمیم شاہد

غیر مسلم آبادی کے نمائندوں کی بلدیاتی انتخابات میں عدم دلچسپی کی وجوہات میں آگاہی کا فقدان اور اس سیاسی عمل پر ان افراد کا عدم اعتماد بتایا جاتا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات 30 مئی کو ہونے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں صبے بھر میں سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔

لیکن قابل ذکر امر یہ کہ جہاں 41 ہزار سے زائد نشستوں کے لیے 84 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، وہیں غیر مسلموں کے لیے مختص 3339 نشستوں کے لیے صرف 349 امیدوار سامنے آئے ہیں۔

غیر سرکاری اندازوں کے مطابق خیبر پختونخواہ میں غیر مسلموں کی تعداد لگ بھگ دو لاکھ ہے جن میں مسیحی، سکھ اور ہندو برادری کی قابل ذکر تعداد شامل ہے۔

غیر مسلم آبادی کے نمائندوں کی بلدیاتی انتخابات میں عدم دلچسپی کی وجوہات میں آگاہی کا فقدان اور اس سیاسی عمل پر ان افراد کا عدم اعتماد بتایا جاتا ہے۔

آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کے چیئرمین ہارون سراب دیال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں آباد غیر مسلموں کی اکثریت کو یہ معلوم ہی نہیں کہ مقامی حکومتوں کے ذریعے ان کے کون سے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنے معاشی حالات کی وجہ سے بھی اس طرف دھیان نہیں دیتے۔

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سردار گرپال سنگھ کے مطابق دیگر وجوہات کے علاوہ سلامتی کے خدشات بھی غیر مسلموں کے لیے سیاسی عمل میں عدم شرکت کی ایک وجہ ہے۔

بلدیاتی نظام حکومت عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بڑی وکالت کرتی آئی ہے اور اس کے عہدیداروں کے مطابق اس بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے انھوں نے ذرائع ابلاغ میں بھرپور تشہیری مہم بھی چلائی۔

الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد خالی رہ جانے والی نشستوں پر ضمنی انتخاب کروایا جائے گا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام نشستیں پُر نہیں ہو جاتیں۔

XS
SM
MD
LG