رسائی کے لنکس

خیبرپختونخواہ: عید کے موقع پر اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فی الحال یہ پابندی پشاور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں دو ہفتوں کے لیے لگائی گئی ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے مختصر مدت کے لیے اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی عائد کر دی ہے جب کہ شدت پسندانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے ایسے کھلونوں پر مستقبل پابندی کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فی الحال یہ پابندی پشاور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں دو ہفتوں کے لیے لگائی گئی ہے۔

"اس (مختصر پابندی) کا مقصد یہ ہے کہ کھلونا نما چیزیں بھی دہشت گردی میں استعمال ہوتی ہیں، بچے ایسے ہی پڑی ہوئی کسی چیز کو کھلونا سمجھ کر اٹھا لاتے ہیں۔"

حالیہ برسوں میں خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں بچے گھر کے باہر پڑے کھلونے اٹھا کر یا تو گھر لے آئے یا وہیں اس سے کھیلنا شروع کر دیا لیکن دراصل وہ کھلونا نما بم تھے جن کے پھٹنے سے جانی نقصان ہو چکا ہے۔

بچوں کے اسلحہ نما کھلونوں کی فروخت پر پابندی کے لیے بعض سماجی تنظیمیں بھی آواز اٹھاتی آئی ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ ایسے کھلونوں سے بچوں میں شدت پسندانہ سوچ ترویج پاتی ہے۔

مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس بارے میں غور کر رہی ہے کہ ایسے اسلحلہ نما کھلونوں پر مستقل بنیادوں پر پابندی عائد کی جائے جس پر جلد پیش رفت ہو گی۔

"اس طرح کے کھلونے عام بازاروں میں ملتے ہیں، بچوں کے لیے تو ہلکے پھلکے کھلونے ہونے چاہیئں ناکہ بچپن میں ہی ان کے ہاتھ میں یہ اسلحہ نما کھلونے پکڑا دیے جائیں اور پھر وہ بڑے ہو کر اس راستے پر چلنے کی کوشش کریں جس سے شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے۔"

بازاروں میں بچوں کے لیے کھلونوں کی دکانوں اور اسٹالز پر ایسے اسلحہ نما کھلونے عام فروخت ہوتے ہیں جب کہ عید کے موقع پر ان کی مانگ میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تشدد کی علامت والے یہ کھلونے بچوں کے ذہنی تربیت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ ایسے کھلونوں پر پورے ملک میں پابندی عائد کر دی جائے۔

XS
SM
MD
LG