رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کا عزم

  • شمیم شاہد

کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کا عزم

کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کا عزم

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں متحارب شیعہ و سنی گروہوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا عزم دہراتے ہوئے بحالی امن سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کی ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کرائی ہے۔

کرم ایجنسی کے لیے اعلیٰ ترین انتظامی افسر اور کمشنر کوہاٹ صاحبزادہ محمد انیس نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ طرفین نے امن معاہدے کی شقوں پر من و عن عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

’’جو وہاں (کرم ایجنسی) کے بڑے مسئلے ہیں جس میں تصادم اور کشیدہ حالات کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے شیعہ و سنی خاندان کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، اور خاص چیز جو ہماری مرکزی شاہراہ ہے اُس کو پُر امن بنا کر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔‘‘

وفاق کے زیر انتظام اس قبالی علاقے میں 2007ء میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں شدت آنے کے بعد مختلف علاقوں سے لگ بھگ 30 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے، جب کہ کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر تاحال آمد و رفت ممکن نہیں۔

متحارب گروہوں کے نمائندوں نے اکتوبر 2008ء میں دارالحکومت اسلام آباد کے قریب سیاحتی مقام مری میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن بعض وجوہات کی وجہ سے اس پر تاحال مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

گزشتہ چار سالوں کے دوران کرم ایجنسی میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا، پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ سرحد پار افغانستان سے دہشت گردوں کے ایک گروہ کے حملے کو پسپا کر کے کم از کم 15 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جدید خود کار ہتھیاروں سے لیس لگ بھگ 200 جنگجوؤں نے اتوار کو رات دیر گئے شمالی پہاڑی ضلع اپر دیر کے سرحدی علاقے برمل میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا۔ پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی پر حملہ آور واپس افغانستان فرار ہو گئے، تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی شدید لڑائی میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان کے صوبوں کنڑ اور نورستان میں روپوش عسکریت پسندوں نے دیر اور چترال کے علاوہ قبائلی علاقے باجوڑ میں متعدد حملے کیے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان سرحد پار سے کیے جانے والے ان حملوں پر افغانستان سے شدید احتجاج کرتا آیا ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گذشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ سرحد پار افغانستان سے شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کر دیئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG