رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 12 'دہشت گرد' ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دریں اثنا قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں جمعرات کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے مشتبہ عسکریت پسندوں میں سے کم ازکم 12 کو ہلاک اور چھ کو زخمی کرنے کا بتایا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کی صبح لگ بھگ پچاس مشتبہ دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ماگارو میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملے کو پسپا کر دیا۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

چند سال قبل ہی سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں آپریشن کر کے اسے عسکریت پسندوں سے پاک کیا تھا لیکن اب بھی یہاں شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز پر اکا دکا حملوں کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

کرم ایجنسی کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے جب کہ یہ ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے بھی ملحق ہے جہاں پاکستانی فوج جون 2014ء سے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی میں مصروف ہے۔

دریں اثنا قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں جمعرات کی صبح ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔

حکام کے مطابق ثمرباغ کے علاقے میں نامعلوم شدت پسندوں کی طرف سے دھماکا خیز مواد ایک چوکی کے قریب نصب کیا گیا تھا اور اس میں دھماکے سے ایک راہگیر بھی زخمی ہوا۔

پاکستان کا یہ شمال مغربی صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لیکن فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اس صوبے سمیت ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔

لیکن رواں سال کے اوائل سے ایک بار پھر پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جسے حکام شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG