رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی کے متحارب قبائل کے درمیان تازہ جھڑپیں، 13 ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغان سرحد سے ملحقہ کرم ایجنسی کے علاقے شلو زان تنگی میں متحارب شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ اتوار کی صبح دوبارہ شروع ہو گیا ۔ تازہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے کم از کم 13افراد ہلاک اور 16زخمی ہوئے ۔

پانچ ستمبر کو طور ی بنگش اور جاجی منگل قبائل کے درمیان زمین اور پانی کے دیرینہ تنازع پر شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 115 افراد ہلاک اور 168 زخمی ہوئے ہیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو دن قبل متحارب مذہبی فرقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں کے درمیان انتظامیہ کی کوششوں سے جنگ بندی کا ایک معاہد ہ طے پایا تھا تاہم اس معاہدے پر بھی ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی طرح عمل درآمد نہ ہو سکا۔

خطے میں امن اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے عہدیداروں نے کرم ایجنسی میں متحارب قبائلیوں کے درمیان جاری جھڑپوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فور ی طور پر مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

امن تحریک کے کنوینرادریس کمال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہاں مذہب کے نام پر قتل عام ہو رہا ہے اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔

غیر سرکاری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیوں کے اتحاد کے ایک عہدیدار شکیل وحید اللہ نے گورنر خیبر پختون خواہ پر زوردیا کہ وہ اس لڑائی کو بند کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

خیال رہے کہ کرم ایجنسی میں شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں کے درمیان تقریباََ تین سال قبل مری میں ایک معاہدہ طے پایا تھا مگر معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے سے دونوں فریقین کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔

XS
SM
MD
LG