رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کے خلاف قبائلی عمائدین کا رابطہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرم ایجنسی کے طوری قبائل کے ایک سرکردہ رہنما ملک نجیب طوری خیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکام نے مقامی لوگوں کو اپنی حفاظت کے لیے انتظامات کرنے کا کہا تھا جو کہ وہ پہلے سے ہی کرتے آ رہے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں افغاں سرحد سے ملحقہ علاقوں میں آباد مقامی قبائل داعش اور دیگر شدت پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحد پار افغانستان میں مقیم قبائل سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔

کرم ایجنسی کی سرحدیں تین افغان صوبوں پکتیا، خوست اور ننگرہار سے ملتی ہیں اور ان علاقوں میں داعش نے اپنے قدم جمانے کی کوششیں شروع کر رکھی تھیں۔

کرم ایجنسی کے طوری قبائل کے ایک سرکردہ رہنما ملک نجیب طوری خیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکام نے مقامی لوگوں کو اپنی حفاظت کے لیے انتظامات کرنے کا کہا تھا جو کہ وہ پہلے سے ہی کرتے آ رہے ہیں۔

"علاقے میں پہلے طالبان تھے پھر القاعدہ آگیا اور اب پھر طالبان کا اثرورسوخ زیادہ ہو گیا ہے اور پھر درمیان میں داعش بھی آگیا ہے تو ان لوگوں سے خطرہ بتایا جا رہا ہے مگر ہمارے لوگ ڈرتے نہیں ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ چند دن قبل کچھ مقامی لوگ افغانستان کھاد کی خریداری کے لیے گئے تھے کہ انھیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا جن کی بازیابی کے لیے بھی افغان سرحد پر آباد زازی قبائل سے بات چیت ہوئی۔ ان کے بقول اگر دونوں طرف کے قبائل کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنا لیں تو یہ پاکستان اور افغانستان میں امن کے لیے بہت نیک شگون ہو گا۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ اور قومی اسمبلی کے موجودہ رکن آفتاب احمد خان شیرپاؤ کہتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ صورتحال ہے جس پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

"کافی سنگین خطرہ ہے اس طرف (افغانستان میں) داعش بھی ہے، طالبان بھی ہیں اور ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے اور وہاں پر ایسے اقدام کرنے چاہیئں کہ اس خطرے سے نمٹا جا سکے۔ اس میں دونوں طرف کے قبائل کا بھی بہت اہم کردار ہے۔"

افغانستان کی حکومت یہ کہتی ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے بین الاقوامی افواج کی مدد سے ان علاقوں میں داعش اور طالبان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور داعش یہاں پسپا ہو رہی ہے۔

پاکستان میں سیاسی و عسکری عہدیدار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ داعش کے خطرے سے آگاہ ہیں لیکن پاکستان میں اس تنظیم کی کوئی منظم موجودگی نہیں اور جو شدت پسند اس تنظیم کا نام استعمال کر رہے ہیں ان سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز بلا امتیاز کارروائیاں کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG