رسائی کے لنکس

لشکر جھنگوی کے ایک ترجمان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے پیغام کے مطابق دھماکا پاکستان میں بسنے والے اہلِ تشیع کی طرف سے ایران کا ساتھ دینے اور شام کے صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کا ردعمل ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اتوار ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد کی تعداد 24 ہو گئی ہے اور 70 سے زائد زخمیوں میں سے اب بھی بڑی تعداد میں اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

اُدھر ہلاک ہونے والوں میں سے بعض کی تدفین پیر کو کی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے کے تمام مرکزی بازار بند ہیں جب کہ فضا سوگوار ہے۔ کرم ایجنسی میں شدید زخمی ہونے والوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پشاور کے اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔

کالعدم سنی انتہا پسند تنظیم ’لشکر جھنگوی‘ نے کرم ایجنسی میں اتوار کو ایک بازار میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ کرم ایجنسی کے علاقے ’پاڑہ چنار‘ میں اتوار کو بم دھماکا ایسے وقت ہوا جب ایک کھلے میدان میں بازار لگا ہوا تھا اور وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

لشکر جھنگوی اس سے قبل بھی ملک میں اہل تشیع پر حملوں میں ملوث رہی ہے اور کرم ایجنسی کا علاقہ پاڑہ چنار فرقہ وارانہ کشیدگی کی بھی لپیٹ میں رہا ہے۔

لشکر جھنگوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروپ داعش کے فلسفے سے اتفاق کرتی ہے۔

لشکر جھنگوی کے ایک ترجمان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے پیغام کے مطابق دھماکا پاکستان میں بسنے والے اہلِ تشیع کی طرف سے ایران کا ساتھ دینے اور شام کے صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کا ردعمل ہے۔

پاکستان میں کئی شدت پسندوں نے داعش سے وفاداری کا اعلان کیا، لیکن حکومت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف ملنے والی کامیابی کے بعد بعض عناصر خود کو فعال ظاہر کرنے کے لیے داعش کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ داعش کے خطرے سے آگاہ ہے لیکن اس تنظیم کا ملک میں سایہ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرم ایجنسی سے ملحقہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے آپریشن ’ضرب عضب‘ جاری ہے۔

پاکستانی فوج نے گزشتہ ہفتے کے اواخر ہی میں ایک بیان میں کہا کہ اس آپریشن میں اُسے نمایاں کامیابی ملی ہے اور اب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دہشت گردوں کی کچھ آماجگاہوں کو صاف کیا جا رہا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں 3,400 دہشت گرد مارے گئے جب کہ اُن کے 837 ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG