رسائی کے لنکس

کالعدم تحریک طالبان کے چھ کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہتھیار ڈالنے والوں کا تعلق طالبان کے محسود گروپ سے ہے اور ان میں تحریک طالبان کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کا بھائی ایاز محسود اور چچا خیر محمد محسود بھی شامل ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چھ عسکریت پسندوں نے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہتھیار ڈالنے والوں کا تعلق طالبان کے محسود گروپ سے ہے اور ان میں تحریک طالبان کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کا بھائی ایاز محسود اور چچا خیر محمد محسود بھی شامل ہیں۔

حکیم اللہ محسود یکم نومبر 2013ء کو شمالی وزیرستان میں ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا جس کے بعد طالبان نے ملا فضل اللہ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کیا تھا۔

تاحال طالبان کی طرف سے اپنے کمانڈروں کے ہتھیار ڈالنے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

کرم ایجنسی افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کا ایک قبائلی علاقہ ہے اور حکام کے مطابق ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو سال قبل شدت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضرب عضب کے باعث بہت سے عسکریت پسند ملحقہ قبائلی علاقوں اور سرحد پار افغانستان فرار ہو گئے تھے۔

کرم ایجنسی میں بھی شدت پسند خاص طور پر سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہے ہیں لیکن یہاں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث ماضی کی نسبت شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں قابل ذکر کمی دیکھی گئی ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضب کے دو سال مکمل ہونے پر بتایا تھا کہ اس میں اب تک 3500 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ آپریشن کے نتیجے میں 4304 مربع کلومیٹر کا علاقہ شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا اور عسکریت پسندوں کے 992 ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔ تاہم ان کے بقول اب بھی بہت سا کام باقی ہے۔

امریکہ کی طرف سے حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا جو کہ افغانستان میں امریکی مفادات اور عام شہریوں پر مہلک حملوں میں ملوث ہے۔

لیکن پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہیں اور سکیورٹی فورسز بلاامتیاز تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG